سیالکوٹ (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف مدثر رتو کی رپورٹ)ضلع سیالکوٹ کی تحصیل سمبڑیال کے اسسٹنٹ کمشنر چوہدری عدنان بشیر وڑائچ ان دنوں اپنے منفرد طرزِ انتظامی امور کے باعث سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ تجاوزات کے خلاف کارروائی کے دوران ان کا انداز روایتی سختی کے بجائے گفتگو، افہام و تفہیم اور مسائل سننے پر مبنی دکھائی دیتا ہے۔ وہ دکانداروں کو تجاوزات ختم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ان کے مسائل بھی سنتے ہیں اور ممکنہ حد تک ایسا راستہ اختیار کرتے ہیں جس سے قانون پر عمل درآمد کے ساتھ کاروبار اور روزگار بھی متاثر نہ ہو۔
عدنان وڑائچ کا تعلیمی اور پیشہ ورانہ سفر بھی قابلِ ذکر ہے۔ وہ PMS-11 بیچ سے تعلق رکھتے ہیں اور فارمین کرسچن کالج کے سابق طالب علم ہیں۔ مقابلے کے امتحانات میں انہیں ابتدا میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور 2016 اور 2018 سمیت متعدد کوششوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، تاہم انہوں نے ہمت نہ ہاری اور بالآخر PMS 2020 میں 13ویں پوزیشن حاصل کرکے اسسٹنٹ کمشنر بننے میں کامیاب ہوئے۔
سمبڑیال میں ان کی انتظامی سرگرمیوں میں تجاوزات کے خاتمے کے ساتھ شہر کی صفائی، گرین بیلٹس، پینٹنگ، لائٹنگ، فلاور مارکیٹ اور ماڈل فروٹ، سبزی و میٹ مارکیٹ کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ وہ مختلف علاقوں کے دورے کرکے صفائی اور ٹریفک کے مسائل کا جائزہ لیتے ہیں جبکہ غیر قانونی منی پٹرول پمپس کے خلاف کارروائی بھی کی جاتی ہے۔ سکولوں، ہسپتالوں، مارکیٹوں اور دیہی علاقوں کے دوروں کے علاوہ کھلی کچہریاں اور عوامی فلاح سے متعلق مختلف سرگرمیاں بھی ان کے معمولات کا حصہ ہیں۔
رمضان المبارک میں نگہبان دسترخوان اور یوم آزادی کی تقریبات میں شرکت کے باعث بھی ان کی سرگرمیاں نمایاں رہیں۔ جولائی 2026 میں ایک بزرگ شہری کے اے سی آفس پہنچنے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس کے بارے میں بتایا گیا کہ سرکاری ریکارڈ میں انہیں وفات پا چکے شخص کے طور پر ظاہر کیا گیا تھا۔
عدنان وڑائچ کی سرگرمیوں کا ایک اور پہلو تعلیم سے وابستہ ہے۔ انہوں نے "Darsgah by Adnan Bashir” کے نام سے آن لائن تعلیمی پلیٹ فارم قائم کر رکھا ہے، جہاں CSS، PMS، PPSC اور FPSC سمیت مختلف مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرائی جاتی ہے۔ ادارے میں بالخصوص انگریزی مضمون، کمپلسریز، انٹرویو تیاری، موک امتحانات اور ون پیپر ٹیسٹس پر توجہ دی جاتی ہے، جبکہ یوٹیوب پر بھی طلبہ کے لیے مفت لیکچرز دستیاب ہیں۔
ان کے انتظامی انداز اور تعلیمی سرگرمیوں کے باعث سوشل میڈیا پر بھی ان کی نمایاں موجودگی ہے۔ ان کے متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بڑی تعداد میں فالوورز موجود ہیں، جہاں ان کی سرکاری سرگرمیوں کی ویڈیوز بھی باقاعدگی سے شیئر کی جاتی ہیں۔ یوں متعدد بار مقابلے کے امتحانات میں ناکامی کے بعد کامیابی حاصل کرنے والے عدنان وڑائچ آج ایک ایسے افسر کے طور پر سامنے آئے ہیں جو انتظامی ذمہ داریوں کے ساتھ عوامی رابطے اور تعلیم کے شعبے میں بھی اپنی الگ شناخت بنانے میں مصروف ہیں۔