مکہ معاہدہ پر یروشلم پوسٹ کا زہریلا اداریہ، صحافت یا اسرائیلی تشویش؟
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
عالمی سیاست میں کچھ تحریریں محض خبر نہیں ہوتیں بلکہ مصنف کی سوچ، خوف اور پسِ پردہ سیاسی مقاصد کا عکاس ہوتی ہیں۔ 16 اگست 2026ء کو ’’دی یروشلم پوسٹ‘‘ میں واس شینوئے (Vas Shenoy) کا شائع ہونے والا اداریہ بھی ایسی ہی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔ بظاہر یہ تحریر سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان ہونے والے ’’مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ‘‘ کے بارے میں ہے، لیکن اس میں ’’سنی بلاک‘‘ کی اصطلاح کا بار بار استعمال یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا یہ ایک غیر جانبدار تجزیہ ہے یا اس معاہدے کو دانستہ طور پر فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش؟
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی قیادتیں پہلے ہی واضح کر چکی ہیں کہ یہ صرف ایک دفاعی اور امن پسند معاہدہ ہے جو کسی بھی ملک یا مسلک کے خلاف نہیں۔ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے بھی صاف کہا کہ یہ معاہدہ ایران یا کسی اور پڑوسی کے خلاف نہیں ہے اور مستقبل میں مصر جیسے دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔
اس تمام شفافیت کے باوجود یروشلم پوسٹ نے اداریے میں دعویٰ کیا کہ یہ معاہدہ اناطولیہ سے لے کر جنوبی ایشیا تک پھیلے ہوئے ’’سنی بلاک‘‘ کو متحد کرتا ہے۔ تحریر میں تینوں ممالک کی 38 کروڑ مجموعی آبادی میں سے 32 کروڑ سنی مسلمانوں کا عدد خاص طور پر نمایاں کیا گیا۔ حالانکہ معاہدے کی کسی شق میں اسے سنی اتحاد نہیں کہا گیا اور نہ ہی اس میں شراکت کے لیے کوئی مسلکی شرط رکھی گئی ہے بلکہ اس کا بنیادی اصول صرف باہمی تحفظ اور مشترکہ دفاع ہے۔
اگر اس تحریر کا مقصد صرف عسکری و سفارتی تجزیہ ہوتا تو غیر جانبدارانہ طور پر پاکستان کی ایٹمی طاقت، ترکیہ کی جدید دفاعی صنعت و نیٹو کے تجربے اور سعودی عرب کی مضبوط معیشت پر بات کی جاتی۔ لیکن یروشلم پوسٹ نے ان تزویراتی صلاحیتوں کو نظر انداز کر کے صرف مذہبی اعداد و شمار گنے۔ 32 کروڑ کا عدد نہ تو کسی میزائل کی حد ہے اور نہ ہی افواج کی تعداد بلکہ یہ محض ایک مذہبی شناخت کا عدد ہے جسے معاہدے کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
معاہدے کی منظوری کے بعد سے مسلسل یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ کسی کے خلاف جارحیت کا منصوبہ نہیں ہے لیکن یروشلم پوسٹ نے اسے ایک پراسرار بلاک بنا کر پیش کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر مستقبل میں حالات بدلتے ہیں، ایران اور عرب ممالک کی کشیدگی کم ہوتی ہے یا مصر، انڈونیشیا اور دیگر مسلم ممالک اس اتحاد میں شامل ہوتے ہیں، تو یہ ’’سنی بلاک‘‘ کا مصنوعی بیانیہ خود ہی ختم ہو جائے گا۔
اصل سوال یہ ہے کہ اسرائیل اور اس کے حامیوں کو اس معاہدے سے واقعی کیا تشویش ہے؟ پاکستان نے قیام کے بعد سے آج تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور سعودی عرب نے بھی فلسطین کے حل کے بغیر تعلقات سے انکار کیا ہے۔ ایسے حساس ماحول میں اگر پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب اپنے دفاعی تعلقات اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مضبوط کرتے ہیں تو اس کا تزویراتی اثر ہونا فطری ہے۔ لیکن اس اثر کا تجزیہ کرنے کے بجائے زبردستی فرقہ وارانہ رنگ دینا بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔
پچھلے کچھ سالوں میں "ابراہیمی معاہدوں” کا بہت چرچا رہا اور اسرائیل کے عرب ممالک سے تعلقات پر باتیں ہوتی رہیں۔ لیکن اب خطے میں طاقت کا نیا توازن سامنے آ رہا ہے۔ مکہ جیسے مقدس مقام پر تین بڑی مسلم طاقتوں کا دفاعی معاہدہ یہ پیغام دیتا ہے کہ مسلم ممالک اب اپنی سلامتی کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے باہمی تعاون پر کھڑا ہونا چاہتے ہیں۔
اگر یروشلم پوسٹ ایک سنجیدہ تجزیہ کرتا تو وہ معاہدے کی عملی شقوں، مشترکہ دفاع کے طریقہ کار، انٹیلی جنس شیئرنگ اور دفاعی صنعت میں تعاون پر بحث کرتا لیکن یروسلم پوسٹ نے ان تمام اہم سوالات کو پسِ پشت ڈال کر صرف مذہبی آبادی کا حساب لگانا ظاہر کرتا ہے کہ مقصد تجزیہ کرنا نہیں ہے بلکہ پرانی پالیسی کے تحت مسلمانوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ہے۔
مکہ معاہدہ کسی مسلک کا نہیں بلکہ خودمختار ریاستوں کی سلامتی کا معاہدہ ہے۔ یروشلم پوسٹ کا اداریہ دراصل اس خوف اور بوکھلاہٹ کی عکاسی کرتا ہے جو مسلم دنیا کے آزاد اور خودکفیل دفاعی نظام کو دیکھ کر پیدا ہو رہی ہے۔ فرقہ واریت کا دھواں کھڑا کر کے اصل حقیقت کو چھپانے کی یہ کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔
حقیقت یہ ہے کہ اس زہریلے اداریے کے پسِ پردہ "گریٹر اسرائیل” کے شوم اور توسیعی منصوبوں کی متوقع ناکامی کا گہرا خوف موجود ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پر یکطرفہ جغرافیائی و عسکری تسلط اور اپنے خفیہ عزائم کی راہ میں صہیو نی حلقے اس مضبوط مسلم دفاعی بندوبست کو سب سے بڑی دیوار سمجھ رہے ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایک خودکفیل اور متحد مسلم دفاعی نظام ان کے تمام تر غاصبانہ اور توسیع پسندانہ خوابوں کو ہمیشہ کے لیے خاک میں ملا سکتا ہے۔
اسی خوف کے تحت یروشلم پوسٹ نے "تقسیم کرو اور حکومت کرو” کی پرانی سازش کا سہارا لیتے ہوئے فرقہ واریت اور مسلکی تقسیم کا زہر گھولنے کی مذموم کوشش کی ہے۔ مسلم امہ کو شیعہ اور سنی کے خانوں میں بانٹ کر ایک تاریخی معاہدے کو مشکوک بنانا اور باہمی بدگمانیوں کے بیج بونا دراصل صہیو نی مکاری کا وہ پرانا ہتھیار ہے جس کا مقصد مسلمانوں کے ہر حقیقی اتحاد کو کمزور کرنا ہے۔
یہ تمام تر گمراہ کن پروپیگنڈا اس تاریخی حقیقت پر پردہ نہیں ڈال سکتا کہ "گریٹر اسرائیل” کا ناپاک خواب اب چکنا چور ہو رہا ہے اور صیہونی ریاست کے خفیہ و توسیع پسندانہ منصوبوں کا غرق ہونا وقت کا حتمی فیصلہ بن چکا ہے۔ مکہ معاہدہ محض ایک کاغذی دستاویز نہیں ہے بلکہ یہ خطے پر مسلط صیہونی تسلط کے زوال، باطل کے غرور کے خاتمے اور مسلم امہ کے ایک نئے، غیر متزلزل، آزاد اور خوددار عسکری عصر کا ببانگِ دہل آغاز ہے۔ یروشلم پوسٹ کی یہ چیخ و پکار اور فکری بوکھلاہٹ دراصل اس امر کا کھلا اعتراف ہے کہ باطل کے ناپاک عزائم کی شکستِ فاش اب نوشتہ والدیوار بن چکی ہے!
