
ننکانہ صاحب (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار احسان اللہ ایاز) واسا کی مبینہ غفلت اور ناقص حکمت عملی کے باعث ننکانہ صاحب شہر میں سیوریج کا بحران بے قابو ہو گیا ہے، متعدد علاقے کئی روز سے گندے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں جس کے باعث شہریوں کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔
متاثرہ علاقوں میں گلی باغ والی، گلی بوٹا کریانہ والی، محلہ کیارہ صاحب، گلی گوردوارہ کیارہ صاحب والی، لاہور موڑ، کنیڈا کالونی، گلی ریلوے اسٹیشن والی اور گلی بوٹا ڈوگر والی سمیت دیگر علاقے شامل ہیں جہاں سیوریج کا پانی کھڑا ہونے سے شدید بدبو اور تعفن پھیل چکا ہے۔ مقامی مکینوں کے مطابق گھروں میں رہنا مشکل ہو گیا ہے جبکہ آمدورفت، کاروبار اور روزمرہ معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر میں جاری سیوریج میگا منصوبے کے باوجود متبادل نکاسی آب کا کوئی مؤثر بندوبست نہیں کیا گیا، جس کے باعث صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق واسا کی مبینہ لاپرواہی، ناقص پلاننگ اور بروقت اقدامات نہ کرنے سے یہ بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔
ٹیکنیکل ماہرین کے مطابق کسی بھی بڑے سیوریج منصوبے کے دوران ٹیمپریری ڈرینیج پلان، یوٹیلٹی مینجمنٹ اور ڈی واٹرنگ جیسے اقدامات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، تاہم موجودہ حالات ظاہر کرتے ہیں کہ یا تو ان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا یا منصوبہ بندی ہی ناقص تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نکاسی آب کے متبادل انتظامات نہ ہونے، ڈھلوان کی کمی، پمپنگ سسٹم کی خرابی اور سسٹم پر اضافی دباؤ بھی پانی کھڑا ہونے کی بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں۔
مزید برآں بروقت بائی پاس لائنز اور ایمرجنسی نکاسی کے انتظامات نہ ہونے سے صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے، جس کے باعث نہ صرف شہری زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ سڑکوں، عمارتوں اور زیر زمین انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
شہری حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ واسا کا انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کہاں ہے، کنٹریکٹر اپنی ذمہ داریاں کیوں پوری نہیں کر رہا اور نیسپاک بطور کنسلٹنٹ اپنی نگرانی کا کردار مؤثر انداز میں ادا کر رہا ہے یا نہیں۔
متاثرہ شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا بندوبست کیا جائے، متاثرہ علاقوں میں صفائی اور جراثیم کش اقدامات کیے جائیں اور منصوبے کی شفاف تکنیکی انکوائری کر کے ذمہ داران کا تعین کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے مسائل سے بچا جا سکے۔

ڈیرہ غازی خان (کیو این این ورلڈ) او پی ایف آئی ہسپتال ڈیرہ غازی خان میں طبی سہولیات کے بلند و بانگ دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں، جہاں ڈاکٹرز مبینہ طور پر حاضری لگانے کے بعد ہسپتال سے غائب ہو جاتے ہیں، جس کے باعث مریض گھنٹوں انتظار کے باوجود علاج کروائے بغیر واپس جانے پر مجبور ہیں۔
ہسپتال کے باہر آویزاں پینا فلیکس پر "ایمرجنسی، او پی ڈی، لیبارٹری سہولیات اور سپیشلسٹ ڈاکٹرز” کی دستیابی کے دعوے واضح طور پر درج ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں سہولیات کے دعوے صرف کاغذی حد تک محدود ہیں۔
متاثرہ شہری محمد حنیف نے بتایا کہ وہ علاج کے لیے ہسپتال کے تین چکر لگا چکے ہیں، لیکن ہر بار یہی کہا گیا کہ ڈاکٹر ابھی گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے اوقات کار کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ ڈاکٹر دوپہر 2 بجے تک موجود ہوتے ہیں، مگر افسوس کہ وہ دن 12 بجے ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔
محمد حنیف کے مطابق، "یہ میرا تیسرا چکر ہے، مگر ڈاکٹر کہیں نظر نہیں آ رہا، جبکہ ڈیوٹی ختم ہونے میں ابھی دو گھنٹے باقی ہیں، آخر ڈاکٹر کہاں چلا جاتا ہے؟”
شہریوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے اور ہسپتال میں ڈاکٹروں کی حاضری کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ عوام کو بنیادی طبی سہولیات میسر آ سکیں۔

اوکاڑہ (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف ملک ظفر) ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں بچوں کو انسدادی قطرے پلا کر رواں سال کی دوسری چار روزہ قومی پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ اس اہم مہم کی نگرانی کے لیے ڈپٹی کمشنر آفس میں خصوصی پولیو کنٹرول روم بھی قائم کر دیا گیا ہے تاکہ ضلع بھر میں جاری سرگرمیوں کی لمحہ بہ لمحہ مانیٹرنگ کی جا سکے۔
تفصیلات کے مطابق یہ مہم 13 اپریل سے 16 اپریل 2026 تک جاری رہے گی، جس کے دوران ضلع بھر میں پانچ سال سے کم عمر کے 6 لاکھ 55 ہزار 938 بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے محکمہ صحت کی جانب سے مجموعی طور پر 956 ٹیمیں فیلڈ میں موجود ہوں گی، جن میں 1262 موبائل ٹیمیں، 123 فکسڈ ٹیمیں اور 68 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیں۔
پولیو ورکرز اپنی ذمہ داریاں مراکزِ صحت، گھروں، ریلوے اسٹیشنز، لاری اڈوں اور ویگن اسٹینڈز پر سرانجام دیں گے تاکہ کوئی بھی بچہ قطروں سے محروم نہ رہے۔ مہم کے دوران خانہ بدوش بستیوں اور دور دراز کی یونین کونسلوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جبکہ مسنگ چلڈرن (رہ جانے والے بچوں) کو اسی روز کور کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ اس بار ‘زیرو ڈوز’ بچوں (جنہیں پہلے کبھی قطرے نہیں پلائے گئے) کی نشاندہی اور ویکسینیشن پر بھی خاص فوکس رکھا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیو جیسے موذی مرض کا خاتمہ قومی مفاد میں ہے اور اس مقصد کے لیے ہر بچے کا ویکسی نیٹ ہونا ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو معذوری سے بچایا جا سکے۔

رینالہ خورد (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار لیاقت علی) رینالہ خورد شہر اور گردونواح میں سوئی گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث گھریلو خواتین کو کھانا بنانے اور دیگر امور نمٹانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گیس کی عدم دستیابی کی وجہ سے شہری ہوٹلوں سے مہنگے داموں کھانا خریدنے پر مجبور ہیں، جبکہ بجلی کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے رہی سہی کسر نکال دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق علاقہ مکینوں فیصل اعجاز، سلمان چوہدری، حافظ عمیر ذوالفقار، محمد ارشاد، شہباز جاوید اور رانا عثمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مسائل کا حل حکومت کے فرائضِ اولین میں شامل ہوتا ہے، لیکن یہاں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ عوام پہلے ہی بھاری ٹیکسوں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، اور اب ایک ہفتے سے جاری گیس کی لوڈشیڈنگ نے زندگی اجیرن کر دی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ گیس نہ ہونے کی وجہ سے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں اور بچے بھوکے اسکول جانے پر مجبور ہیں۔ سوئی گیس کے ساتھ ساتھ بجلی کی آنکھ مچولی نے بھی کاروباری اور گھریلو زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ہوٹل مالکان نے بھی گیس کی کمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں بڑھا دی ہیں، جس سے غریب طبقے کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔
متاثرہ شہریوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ رینالہ خورد میں سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ کا دورانیہ فوری طور پر کم کر کے فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے تاکہ عوام کو درپیش ذہنی اور معاشی اذیت سے نجات مل سکے۔

رینالہ خورد (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار لیاقت علی) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے "پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام” کے تحت رینالہ خورد کے لیے 7 ارب 30 کروڑ روپے کی خطیر رقم سے میگا ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے منعقدہ پروقار تقریب میں رکن قومی اسمبلی چوہدری ندیم عباس ربیرہ، رکن صوبائی اسمبلی چوہدری جاوید علاؤالدین اور ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ احمد عثمان جاوید نے مشترکہ طور پر ان منصوبوں کا آغاز کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایم پی اے چوہدری جاوید علاؤالدین نے کہا کہ پی ڈی پی پروگرام رینالہ خورد کی تاریخ بدل کر رکھ دے گا، ان منصوبوں میں فنڈز کی شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا تاکہ عوامی خدمت کا سفر کامیابی سے جاری رہے۔ ایم این اے چوہدری ندیم عباس ربیرہ کا کہنا تھا کہ پنجاب بھر میں یکساں ترقی مریم نواز کا وژن ہے، میگا سیوریج اسکیم سے شہر کی بڑھتی آبادی کے لیے نکاسی آب کا دیرینہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گا۔
ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے منصوبوں کی تکنیکی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 3808 ملین روپے سے شہر بھر میں 39 کلومیٹر طویل نئی سیوریج لائنیں بچھائی جائیں گی، جبکہ 895 ملین روپے کی لاگت سے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ تعمیر ہوگا جو گندے پانی کو ری سائیکل کر کے کارآمد بنائے گا۔ اس کے علاوہ 746 ملین روپے سے شہر کی گلیوں کے فرشوں کی مرمت اور سٹریٹ لائٹس کی تنصیب مکمل کی جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ منصوبے میں بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے لیے انڈر گراؤنڈ واٹر ٹینک اور سیوریج لائنز کی صفائی کے لیے جدید لیکوڈ ویسٹ مشینری بھی شامل ہے۔ شہر کے چار پبلک پارکس کی اپ گریڈیشن اور میونسپل مشینری کے لیے پارکنگ شیڈز بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ تقریب میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور رینالہ خورد کے لیے ان تاریخی منصوبوں پر وزیراعلیٰ پنجاب کا شکریہ ادا کیا۔

ننکانہ صاحب (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ننکانہ صاحب میں وساکھی میلے کی تقریبات باقاعدہ طور پر اختتام پذیر ہو گئی ہیں، جس کے بعد بھارت سے آئے ہوئے سکھ یاتریوں کا قافلہ گوردوارہ سچا سودا فاروق آباد کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے افسران نے یاتریوں کو سخت سکیورٹی حصار میں الوداع کیا۔ وساکھی تہوار کی مرکزی تقریب گوردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال میں منعقد ہوگی۔
سکھ یاتریوں نے ننکانہ صاحب میں قیام کے دوران فراہم کی گئی رہائش، کھانے پینے، علاج معالجے اور سکیورٹی کی بہترین سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ یاتریوں کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے مثالی انتظامات کیے اور ہمارا خصوصی خیال رکھا گیا۔ بھارتی سکھ یاتریوں نے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب نے ہمیں وزیروں جیسا پروٹوکول دیا، جس پر ہم تہہ دل سے مشکور ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بھارتی یاتریوں نے کہا کہ وہ پاکستانیوں کے پیار اور محبت کو کبھی نہیں بھلا پائیں گے۔ انہوں نے پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں کے لوگ پرامن اور انتہائی محبت کرنے والے ہیں، ہمارا پاکستانیوں کے ساتھ دل کا رشتہ ہے اور ہم بار بار یہاں آتے رہیں گے۔ یاتریوں نے بہترین سفارتی اور انتظامی انتظامات پر حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

ننکانہ صاحب: (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار احسان اللہ ایاز) 327 ویں بیساکھی میلہ جنم خالصہ کی تین روزہ تقریبات کے موقع پر ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کی جانب سے سکیورٹی اور ایمرجنسی انتظامات کو فول پروف بنایا گیا، جہاں 250 سے زائد ریسکیو افسران اور ریسکیورز نے مرکزی گوردوارہ جنم استھان سمیت اہم مقامات پر ہائی الرٹ رہتے ہوئے مکمل ریسکیو کور فراہم کیا۔
تفصیلات کے مطابق دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتریوں کی بڑی تعداد نے مذہبی رسومات میں شرکت کی، جس کے پیش نظر ریسکیو ٹیموں کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا۔ ان میں ریسکیو موبائل ٹیمیں، میڈیکل ریسکیو پوسٹیں، فائر سیفٹی یونٹس، سروور پر واٹر ریسکیو پوسٹ اور ریپڈ ریسپانس ٹیمیں شامل تھیں، جو کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہیں۔
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار نے بتایا کہ تین روزہ بیساکھی تقریبات کے دوران بین الاقوامی سطح پر آنے والے سکھ یاتریوں کو بہترین ریسکیو سہولیات فراہم کی گئیں، جس پر یاتریوں نے ریسکیورز کی بروقت اور مؤثر خدمات کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس بڑے بین الاقوامی ایونٹ کے کامیاب انعقاد پر تمام ریسکیو افسران اور اہلکار خراجِ تحسین کے مستحق ہیں، جنہوں نے نہ صرف تقریبات کے دوران بلکہ مختلف اضلاع سے آنے والے قافلوں (Convoys) کی نقل و حرکت کے دوران بھی مکمل ریسکیو کور فراہم کیا۔
محمد اکرم پنوار کے مطابق ریسکیو ایمرجنسی وہیکلز مختلف اضلاع سے واہگہ بارڈر تک یاتریوں کے قافلوں کے ہمراہ موجود رہیں گی تاکہ ان کے محفوظ سفر کو یقینی بنایا جا سکے۔

گوجرانوالہ (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف محمدرمضان نوشاہی) ڈی ایچ کیو ہسپتال گوجرانوالہ میں مبینہ طبی غفلت نے ایک ہنستے بستے گھر کی خوشیاں اجاڑ دیں، جہاں دورانِ زچگی ماں اور اس کی نومولود بچی دم توڑ گئیں۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد ہسپتال میں کہرام مچ گیا اور لواحقین نے ڈاکٹروں کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے انصاف کی اپیل کی ہے۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق متوفیہ وفا محبوب کو زچگی کے لیے ہسپتال لایا گیا تھا۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ حمل کے دوران باقاعدگی سے چیک اپ کروا رہی تھیں اور ان کی حالت بہتر تھی۔ لواحقین نے سنگین الزام عائد کیا ہے کہ ڈاکٹروں نے خون کی کمی کا جواز بنا کر فوری طور پر دو بوتل خون طلب کیا، جو فراہم کر دیا گیا، تاہم وہ خون مریضہ کو لگایا ہی نہیں گیا جو کہ مجرمانہ غفلت ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق زچگی کے کچھ ہی دیر بعد نومولود بچی جاں بحق ہو گئی، جس کے بعد ماں کی حالت بھی بگڑ گئی اور وہ بھی خالقِ حقیقی سے جا ملی۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ اس تمام صورتحال کے دوران کوئی بھی سینئر ڈاکٹر وارڈ میں موجود نہیں تھا اور جونیئر عملے کے رحم و کرم پر مریضہ کو چھوڑ دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے دو قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (MS) ڈاکٹر امتیاز رانا نے معاملے کا نوٹس لے لیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق مریضہ کو کچھ پیچیدگیوں اور خون کی شدید کمی کا سامنا تھا، تاہم اصل حقائق جاننے کے لیے تین سے چار سینیئر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
ایم ایس ڈاکٹر امتیاز رانا نے یقین دلایا کہ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں اگر کسی بھی ڈاکٹر یا عملے کی غفلت ثابت ہوئی تو اسے کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے صحت کے شعبے میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی پر زیرو ٹالرینس کی پالیسی نافذ ہے۔

اسلام آباد: (کیو این این ورلڈ) پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے طویل اور اہم مذاکرات کسی حتمی معاہدے کے بغیر اختتام پذیر ہو گئے، تاہم دونوں فریقین نے سفارتی عمل جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات 21 گھنٹوں سے زائد جاری رہے، جن میں دونوں ممالک کے درمیان متعدد اہم اور حساس معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوئی اور تکنیکی ماہرین کے درمیان تحریری مسودوں کا تبادلہ بھی کیا گیا۔
مذاکرات کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پریس بریفنگ میں واضح کیا کہ امریکا اور ایران کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے، اور امریکی وفد بغیر کسی ڈیل کے واپس واشنگٹن روانہ ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے مذاکرات میں نیک نیتی اور لچک کا مظاہرہ کیا، تاہم ایران نے امریکی شرائط کو تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا ایران سے واضح یقین دہانی چاہتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔
دوسری جانب ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا ایرانی مؤقف اور اصولوں کو سمجھنے کے باوجود اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے مذاکرات میں مثبت تجاویز پیش کیں، تاہم ماضی کے تجربات کی بنیاد پر ایران کو اب بھی امریکا پر مکمل اعتماد نہیں۔ قالیباف نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے پاکستانی عوام کو سلام پیش کیا اور ثالثی کے عمل کو سراہا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی واضح کیا کہ ایک ہی نشست میں کسی جامع معاہدے کی توقع نہیں کی جا سکتی، مذاکرات پیچیدہ تھے اور کئی نئے موضوعات بھی زیر بحث آئے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز، جوہری پروگرام، جنگی نقصانات کے ازالے، پابندیوں کے خاتمے اور خطے میں جنگ کے مکمل خاتمے جیسے اہم نکات پر بات چیت ہوئی، جن میں سے بعض پر پیش رفت ہوئی تاہم چند اہم معاملات پر اختلاف برقرار رہا۔
پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکا اور ایران جنگ بندی برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کا عمل جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان سہولت کاری کا کردار جاری رکھے گا اور خطے میں پائیدار امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے ملے جلے اشارے دیتے ہوئے کہا کہ معاہدہ ہو یا نہ ہو، انہیں اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، تاہم انہوں نے ایران کے خلاف جنگ میں کامیابی کا دعویٰ بھی دہرایا اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر خدشات ظاہر کیے۔
دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف مہم ابھی ختم نہیں ہوئی اور مزید اقدامات باقی ہیں، جبکہ لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں جن میں متعدد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
ایران میں بھی امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہزاروں خواتین اور بچوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل کے اندر بھی جنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں، جبکہ سابق اسرائیلی فوجی حکام نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے جنگی حکمت عملی کو ناکام قرار دیا ہے۔
عالمی برادری بھی متحرک ہو گئی ہے، آسٹریلیا سمیت مختلف ممالک نے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی برقرار رکھتے ہوئے دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں تاکہ خطے میں استحکام پیدا کیا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ اسلام آباد مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے، تاہم سفارتی عمل کا جاری رہنا ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن پیچیدہ تنازعات اور باہمی عدم اعتماد کے باعث کسی بڑے بریک تھرو کے لیے مزید وقت اور سنجیدہ کوششیں درکار ہوں گی۔

سیالکوٹ (کیو این این ورلڈ/ بیورو چیف مدثر رتو) اسسٹنٹ کمشنر پسرور سدرہ ستار کے خلاف سوشل میڈیا پر زیرِ گردش منفی اور گمراہ کن ویڈیو کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ کسی بھی سرکاری افسر کے خلاف بغیر تصدیق شدہ معلومات پر مبنی مواد کی اشاعت نہ صرف اخلاقی اقدار کے منافی ہے بلکہ یہ عمل قانونی مواخذے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
سدرہ ستار نے بطور اسسٹنٹ کمشنر اپنی تعیناتی کے بعد سے تمام فرائض قانون اور ضابطے کے مطابق سرانجام دیے ہیں۔ انہوں نے کسی بھی قسم کے سیاسی یا سماجی دباؤ کو قبول کیے بغیر اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائی ہیں، خصوصاً سیلابی صورتحال کے دوران انہوں نے عملی میدان میں رہتے ہوئے جس جرات اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ ستائش ہے۔
یہ امر واضح کیا جاتا ہے کہ کسی بھی خاتون افسر کی ذاتی زندگی کو بنیاد بنا کر کردار کشی کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ پاکستان کے مروجہ قوانین، بشمول ہتکِ عزت اور سائبر کرائم ایکٹ کے تحت قابلِ سزا جرم ہے۔ ایسے عناصر جو سوشل میڈیا پر جھوٹا اور من گھڑت مواد پھیلا کر کسی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی فرد کو اسسٹنٹ کمشنر کے سرکاری امور سے متعلق کوئی شکایت ہے تو وہ متعلقہ فورمز پر قانونی طریقہ کار کے مطابق رجوع کرے، تاہم بلاجواز الزامات اور ذاتی حملوں سے سختی سے اجتناب کیا جائے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر کی ہدایات کے مطابق سدرہ ستار اپنی ذمہ داریاں قانون و ضابطے کے تحت بخوبی انجام دے رہی ہیں۔ تمام شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں اور کسی بھی غیر مصدقہ مواد کو شیئر کرنے سے گریز کریں، بصورتِ دیگر وہ قانونی نتائج کے خود ذمہ دار ہوں گے۔