ڈیرہ غازی خان (کیو این این ورلڈ/سٹی رپورٹر جواد اکبر): ضلع کونسل ڈیرہ غازی خان کے 100 فٹ بلند قومی پرچم کے منصوبے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی بعض تنقید اور دعووں کے جواب میں متعلقہ منصوبے کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہ منصوبہ 14 اگست 2026 کے موقع پر شروع یا مکمل ہونے والا نیا منصوبہ نہیں بلکہ 2025 میں ہی مکمل کیا جا چکا تھا۔
منصوبے کے حوالے سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کسی بھی ترقیاتی یا تعمیراتی منصوبے پر تنقید اور سوال اٹھانا شہریوں، صحافیوں اور عوامی نمائندوں کا حق ہے، تاہم کسی منصوبے کی لاگت، نوعیت اور معیار کے بارے میں رائے قائم کرنے سے قبل اس کا مکمل ریکارڈ، تکنیکی تفصیلات اور موقع پر ہونے والے کاموں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ صرف ایک تصویر یا نصب شدہ قومی پرچم کو دیکھ کر پورے منصوبے کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا درست تصویر پیش نہیں کرتا۔
ضلع کونسل ڈیرہ غازی خان کا یہ منصوبہ محض 100 فٹ بلند ایک پول نصب کرکے اس پر قومی پرچم لہرانے تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں 30 بائی 20 فٹ کے قومی پرچم کے ساتھ 100 فٹ بلند مضبوط ایم ایس اسٹیل پول، آر سی سی فاؤنڈیشن، اسٹیل ورک، برک ورک، گلیز ٹائل اور معیاری پینٹ سمیت متعدد تعمیراتی اور تکنیکی امور شامل تھے۔
منصوبے کے پول کی ساخت کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ابتدائی ڈیزائن میں 10 انچ قطر کا پول تجویز کیا گیا تھا، تاہم مضبوطی، معیار اور پائیداری کو مدنظر رکھتے ہوئے عملی کام 12 انچ قطر سے شروع کیا گیا۔ پول کی مختلف حصوں پر مشتمل پائپنگ میں 12 انچ قطر کا 20 فٹ، 10 انچ قطر کا 20 فٹ، 8 انچ قطر کا 20 فٹ، 6 انچ قطر کا 20 فٹ اور 4 انچ قطر کا 20 فٹ حصہ شامل ہے، یوں پول کی مجموعی بلندی 100 فٹ بنتی ہے۔
منصوبے کا ایک اہم تکنیکی پہلو زیر زمین آر سی سی فاؤنڈیشن بھی ہے، جو پول کی مضبوطی اور استحکام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ مؤقف کے مطابق اتنے بڑے اور بھاری قومی پرچم کے لیے صرف اوپر دکھائی دینے والا اسٹیل پول ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ اس کی تنصیب کے لیے زمین کے اندر فاؤنڈیشن سمیت مختلف تکنیکی تقاضے پورے کرنا ضروری ہوتے ہیں۔ زیر زمین ہونے کی وجہ سے یہ کام عام تصاویر میں دکھائی نہیں دیتے، تاہم ان کا منصوبے کا حصہ ہونا اپنی جگہ اہم ہے۔
ذرائع کے مطابق منصوبے کی تکمیل کے دوران بعض اضافی کام بھی کرنا پڑے، جن میں بھاری سامان کی تنصیب اور پول کو کھڑا کرنے کے لیے کرین منگوانا، اس کے کرائے کی ادائیگی، لائٹنگ کے انتظامات اور بجلی کی کیبلنگ سمیت دیگر ضروری کام شامل تھے۔ ان اضافی کاموں کے باعث منصوبے پر کام کرنے والے ٹھیکیدار کو بھی بعض مالی مشکلات اور اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑا۔
منصوبے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ قومی پرچم اور پول کو صرف ایک تصویر کے تناظر میں دیکھ کر منصوبے کے تمام اخراجات، تکنیکی تقاضوں اور تعمیراتی کاموں کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ کسی بھی تعمیراتی منصوبے کی اصل نوعیت جاننے کے لیے اس کی منظوری، ڈیزائن، تخمینہ، استعمال ہونے والے میٹریل، فاؤنڈیشن، تنصیب اور اضافی کاموں سمیت مکمل ریکارڈ کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
اس حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضلع کونسل کے منصوبے پر تنقید کرنے والے افراد اگر کسی قسم کے مالی یا انتظامی اعتراضات رکھتے ہیں تو وہ متعلقہ ریکارڈ طلب کرکے سوال اٹھا سکتے ہیں اور منصوبے کی شفافیت کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ تاہم کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے سے قبل تمام حقائق سامنے رکھنا ضروری ہے تاکہ تنقید محض قیاس آرائی یا سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی محدود معلومات تک نہ رہ جائے۔
یہ امر بھی اہم ہے کہ منصوبہ 2025 میں مکمل ہوچکا تھا، اس لیے اسے 14 اگست 2026 کا نیا ترقیاتی منصوبہ قرار دینا درست نہیں۔ 14 اگست 2026 کو قومی پرچم کی مناسبت سے اس منصوبے کا دوبارہ نمایاں ہونا اسے نیا منصوبہ نہیں بنا دیتا۔
شہری منصوبوں پر سوال اٹھانا احتساب کا اہم ذریعہ ہے اور سرکاری وسائل کے استعمال پر عوام کو معلومات حاصل کرنے کا پورا حق ہے، تاہم مؤثر احتساب کے لیے تحقیق، دستاویزات اور مکمل حقائق بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح صحافت کا مقصد بھی صرف کسی تصویر یا دعوے کو بنیاد بنا کر سنسنی پیدا کرنا نہیں بلکہ معاملے کے تمام پہلوؤں کو سامنے لاکر عوام کو درست معلومات فراہم کرنا ہے۔
ضلع کونسل ڈیرہ غازی خان کے 100 فٹ بلند قومی پرچم کا منصوبہ اسی تناظر میں دیکھا جائے تو اصل سوال صرف یہ نہیں کہ پرچم کتنا بڑا یا پول کتنا بلند ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ منصوبے میں کون کون سے تعمیراتی و تکنیکی کام شامل تھے، ان پر کتنا خرچ آیا، کون سا میٹریل استعمال ہوا اور منصوبہ کس ڈیزائن اور معیار کے مطابق مکمل کیا گیا۔ ان تمام سوالات کے جوابات مکمل ریکارڈ اور تکنیکی تفصیلات کے ذریعے ہی سامنے آسکتے ہیں۔
لہٰذا منصوبے پر تنقید یا سوال ضرور اٹھائے جائیں، لیکن مکمل معلومات اور متعلقہ ریکارڈ کی بنیاد پر۔ کیونکہ آدھی معلومات سے مکمل نتیجہ اخذ کرنا نہ مؤثر احتساب ہے اور نہ ذمہ دارانہ صحافت۔ قومی پرچم جیسے علامتی اور عوامی منصوبے کے بارے میں بھی بہتر طرزِ عمل یہی ہے کہ حقائق کی مکمل جانچ کے بعد رائے قائم کی جائے تاکہ اختلافِ رائے کے باوجود خبر اور تنقید دونوں تحقیق اور دلیل کے معیار پر پوری اتریں۔