اسلام آباد/دمشق(کیو این این ورلڈ) شام اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات میں ایک نئے اور تاریخی باب کا آغاز ہوگیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے سیاسی، سیکیورٹی اور اقتصادی شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ شامی خبررساں ادارے سیریا عرب نیوز ایجنسی (SANA) کے مطابق شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی کا 19 سال بعد پاکستان کا اہم دورہ دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی تعاون کے نئے دور کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔
SANA کی رپورٹ کے مطابق شامی وزیر خارجہ نے گزشتہ بدھ کو اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ اسلام آباد کا دورہ کیا، جس کے دوران دمشق اور اسلام آباد کے درمیان سیاسی، سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ شام علاقائی اور عالمی سطح پر پاکستان کے ساتھ اپنے سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید وسعت دینے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔
شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے، علاقائی صورتحال اور سیکیورٹی تعاون سمیت مختلف معاملات زیرِ بحث آئے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا، جبکہ مقبوضہ جولان کے معاملے پر بھی شام کے مؤقف کی حمایت کی گئی۔ پاکستان نے ادلب کے ابو الظہور ہوائی اڈے پر اسرائیلی حملوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔
شامی وزیر خارجہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کیا اور خطے میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔ شامی قیادت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ سیکیورٹی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں روابط بڑھانے میں دلچسپی کا اظہار بھی کیا گیا۔
دونوں ممالک کے درمیان عوامی اور تجارتی روابط کے فروغ کے لیے براہِ راست پروازوں کی بحالی پر بھی بات چیت ہوئی۔ اس کے علاوہ دمشق یا اسلام آباد میں سرمایہ کاری فورم منعقد کرنے کی تجویز اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقاتوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کے ممکنہ کردار پر بھی بات ہوئی۔ شامی حکام نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
شامی مشیر محمد الجفال نے کہا کہ شامی وزیر خارجہ کا پاکستان کا دورہ ایک ایسے اہم اور حساس وقت میں ہوا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات مزید وسیع تعاون کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق دمشق ریاض، انقرہ اور اسلام آباد کے ساتھ اپنے تعلقات کو علاقائی استحکام کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل سمجھتا ہے۔
محمد الجفال کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت دونوں ممالک کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ پیش رفت سے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
شامی خبررساں ادارے کے مطابق شامی وزیر خارجہ کا 19 سال بعد پاکستان کا دورہ محض سفارتی رابطہ نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو نئے مرحلے میں داخل کرنے کی اہم پیش رفت ہے، جس سے مستقبل میں تجارت، سرمایہ کاری، عوامی روابط، سیکیورٹی اور علاقائی تعاون کے شعبوں میں مزید پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔