اساتذہ کی کمی اور غیر تدریسی ذمہ داریوں کے خلاف لنڈی کوتل کے پرائمری اساتذہ کا احتجاج، واٹس ایپ گروپس چھوڑ دیے

لنڈی کوتل (بیورورپورٹ) ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں سرکاری پرائمری سکولوں کے ہیڈ ٹیچرز اور اساتذہ کی اہم بیٹھک ہوئی، جس میں اساتذہ کو درپیش مسائل، سکولوں میں سٹاف کی کمی، بنیادی سہولیات کے فقدان اور تدریسی امور سمیت دیگر معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا اور متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔

سینئر ٹیچر شریف اللہ آفریدی نے اجلاس کے حوالے سے اخبار کو جاری بیان میں کہا کہ میٹنگ میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ سب سے پہلے تمام پرائمری سکولوں میں اساتذہ کی کمی کو فوری طور پر پورا کیا جائے تاکہ طلباء کی تعلیم متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ تمام اساتذہ کی سروس بکس بھی فوری طور پر اپڈیٹ کی جائیں تاکہ انہیں دفتری امور کے حوالے سے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں اساتذہ نے بار بار ہونے والے آڈٹ کے معاملے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ اساتذہ کا کہنا تھا کہ آڈٹ سال میں صرف ایک مرتبہ کیا جائے، کیونکہ بار بار آڈٹ کے عمل سے اساتذہ شدید مشکلات کا شکار ہیں اور ان کا قیمتی وقت بھی ضائع ہوتا ہے۔

اساتذہ نے مطالبہ کیا کہ آڈٹ کے لیے انہیں دفاتر میں طلب کرنے کے بجائے متعلقہ افسران خود سکولوں میں آکر آڈٹ کریں، کیونکہ جب اساتذہ آڈٹ کے سلسلے میں دفتر جاتے ہیں تو ان کی عدم موجودگی کے باعث طلباء کا تدریسی وقت ضائع ہوتا ہے اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔

اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ آڈٹ سے قبل اساتذہ کو کلیرنس سرٹیفکیٹ جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی جائے اور اس کے بعد آڈٹ کا عمل مکمل کیا جائے۔

اجلاس میں اساتذہ نے انتظامی امور اور غیر تدریسی ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ اساتذہ کا کہنا تھا کہ جب تک پرائمری سکولوں اور اساتذہ کے بنیادی مسائل حل نہیں کیے جاتے، کوئی ہیڈ ٹیچر یا انچارج واٹس ایپ کے ذریعے افسران کو کسی قسم کا ڈیٹا فراہم نہیں کرے گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام ہیڈ ٹیچرز اور انچارجز متعلقہ واٹس ایپ گروپس احتجاجاً چھوڑ دیں گے۔

پرائمری اساتذہ کا کہنا تھا کہ انہیں غیر تدریسی ذمہ داریوں اور بار بار کے انتظامی کاموں میں الجھانے کے بجائے طلباء کو پڑھانے کا موقع دیا جائے تاکہ وہ اپنی تمام تر توجہ بچوں کی تعلیم و تربیت پر مرکوز کر سکیں۔ اساتذہ نے واضح کیا کہ پہلے ان کے جائز مسائل حل کیے جائیں، اس کے بعد وہ انتظامی امور میں مکمل تعاون کریں گے۔

اساتذہ نے مطالبہ کیا کہ لنڈی کوتل کے تمام سرکاری پرائمری سکولوں میں فوری طور پر ضرورت کے مطابق اساتذہ تعینات کیے جائیں، بنیادی سہولیات کی کمی دور کی جائے اور تعلیمی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

واضح رہے کہ لنڈی کوتل تحصیل میں یونیسیف اور پی ٹی سی فنڈ کے تحت تعینات اساتذہ کو مدت مکمل ہونے پر فارغ کیا گیا ہے، جس کے باعث تحصیل کے مختلف پرائمری سکولوں میں اساتذہ کی کمی پیدا ہوگئی ہے۔ اساتذہ کے مطابق سٹاف کی کمی کے باعث طلباء کی پڑھائی بری طرح متاثر ہو رہی ہے، جبکہ موجودہ اساتذہ پر تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اضافی انتظامی امور کا بوجھ بھی بڑھ گیا ہے۔
لنڈی کوٹل اساتذہ کا احتجاج

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے