بہاولپور (کیو این این ورلڈ): سابق وفاقی وزیر چوہدری طارق بشیر چیمہ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں نئے صوبے نومبر یا دسمبر تک بن جانے چاہئیں، کیونکہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے عوام کے مسائل مقامی سطح پر حل کرنے اور خطے میں خوشحالی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
بہاولپور میں گفتگو کرتے ہوئے طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ 15 دسمبر سے 15 جنوری تک بلدیاتی انتخابات نہیں ہوں گے، جبکہ بہاولپور صوبہ بحالی کا بل پیش ہوا تو وہ اس کی منظوری کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے پاس خود جائیں گے۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ اگر بہاولپور صوبہ بحال ہوا تو اس مقصد کے لیے ایک بڑا سیاسی اتحاد تشکیل دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام حکومت سے عام آدمی تنگ ہے تو ایسے حالات میں ہم خوش کیسے ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے عام آدمی کے مسائل اس کی دہلیز پر حل کرنے میں مدد ملے گی اور عوام کے لیے خوشحالی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ تاہم ان کے بقول نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے ساتھ انتظامی ڈھانچے میں بھی بنیادی تبدیلیاں ضروری ہیں۔
طارق بشیر چیمہ کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس میں صرف ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کے ذریعے نظام چلانے کے بجائے عوامی قیادت کو بااختیار بنانا ہوگا تاکہ مقامی نمائندے عوام کے مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کرسکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے بعد سابق ضلعی نظامت والا بلدیاتی نظام رائج کیا جانا چاہیے، تاکہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں اور عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے دور دراز سرکاری دفاتر کے چکر نہ لگانا پڑیں۔