وادیِ کیلاش کا سفر،صحافی دوستوں کے ساتھ چند یادگار دن
تحریر: نورحلیم آفریدی
باڑہ کے صحافی ہر سال پُرسکون ماحول سے لطف اندوز ہونے اور مختلف علاقوں کی ثقافت، روایات اور طرزِ زندگی کو قریب سے دیکھنے کے لیے کسی نہ کسی مقام پر اجتماعی پروگرام بناتے ہیں۔ وہاں کے ماحول اور لوگوں کے رہن سہن سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ یہ سفر صحافی دوستوں کے لیے باہمی میل جول کا بھی ایک خوبصورت ذریعہ بنتا ہے۔

حسبِ سابق، اس سال بھی چترال اور وادیِ کیلاش جانے کا پروگرام بنایا گیا۔ اس مرتبہ تمام صحافی دوست کافی پُرجوش اور پُرتجسس تھے، کیونکہ اکثر دوستوں نے اس سے قبل وادیِ کیلاش کا سفر نہیں کیا تھا۔
گزشتہ پیر کو صبح ساڑھے آٹھ بجے روانگی کا وقت مقرر کیا گیا۔ دو مقامات پر دوستوں کو جمع ہونے کا کہا گیا۔ جو دوست پریس کلب کے قریب رہتے تھے، انہیں پریس کلب آنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ کچھ دوستوں کے لیے رنگ روڈ پر سابق رکنِ قومی اسمبلی ناصر خان آفریدی کے پٹرول پمپ کو ملاقات کا مقام مقرر کیا گیا۔ تمام دوست وہاں جمع ہوئے اور سفر کا آغاز کیا۔

موٹروے ٹول پلازہ پہنچ کر ٹول ٹیکس ادا کیا اور موٹروے پر سفر شروع کیا۔ صوابی کے قریب سوات انٹرچینج سے ایکسپریس وے پر سفر جاری رکھتے ہوئے ہم تیمرگرہ پہنچے۔ وہاں دوستوں نے کھانا کھانے کی خواہش ظاہر کی۔ پہلے سے تیار کیا ہوا کھانا کھایا اور پھر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔

چترال تک سڑک کافی اچھی حالت میں تھی، تاہم چترال سے آگے وادیِ کیلاش کی طرف جانے والی سڑک قدرے دشوار اور کچی تھی۔ سفر کرتے ہوئے ہم رات تقریباً گیارہ بجے وادیِ کیلاش پہنچے۔ ہوٹل پہلے ہی بک کیا جا چکا تھا، اس لیے تمام دوستوں کو کمروں میں دو دو اور تین تین کی تعداد میں ایڈجسٹ کیا گیا اور رات آرام میں گزاری۔

اگلی صبح وادیِ کیلاش کے معروف سماجی کارکن لوک رحمت ہمارے گائیڈ بنے۔ انہوں نے ہمیں کیلاش کے لوگوں کی روایات، ثقافت اور طرزِ زندگی کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔ اس کے بعد ہم نے وہاں کے مختلف مذہبی اور ثقافتی مقامات کا دورہ کیا۔ پورا دن علاقے کی خوبصورتی، ثقافت اور منفرد روایات کو دیکھنے میں گزرا اور رات کو واپس ہوٹل پہنچ کر آرام کیا۔
تیسرے دن صبح دوبارہ لوک رحمت کے ساتھ ایک اور کیلاش گاؤں کی طرف روانہ ہوئے، جسے رمبور کہا جاتا ہے۔ وہاں دوپہر تک قیام کیا، علاقے کے مختلف مذہبی اور ثقافتی مقامات دیکھے اور کیلاش برادری کی زندگی کو قریب سے سمجھنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد واپس اپنے ہوٹل آ گئے، رات گزاری اور اگلی صبح وادیِ کیلاش سے واپسی کا پروگرام بنایا۔

آخرکار ہم خیریت سے واپسی کے سفر پر روانہ ہوئے اور اپنے گھروں کو پہنچ گئے۔

