سندھ کی وحدت پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: سندھ اسمبلی میں یک زبان ہو کر قرارداد منظور

کراچی ( کیو این این ورلڈ) سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق پیش کی گئی تحریک التوا پر چوتھے روز کی بحث کے بعد سندھ کی تقسیم کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کر لی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رکن نثار کھوڑو کی جانب سے پیش کی جانے والی اس قرارداد کی منظوری کے وقت اراکین اسمبلی نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر "سندھ دھرتی ماں ہے” کے بینرز لہرائے اور صوبے کی وحدت کے حق میں نعرے بازی کی۔

قرارداد کے متن میں واضح کیا گیا ہے کہ سندھ ایک ہے اور ایک ہی رہے گا اور اس کی حدود میں کسی بھی قسم کی تبدیلی، ڈویژن، ضلع یا علاقے کو الگ کرنے کا منصوبہ ناقابل قبول ہے۔ ایوان نے سندھ کے کسی حصے کو وفاقی انتظام کے تحت دینے کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ صوبے کی علاقائی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اس حوالے سے اسمبلی اپنا آئینی اختیار استعمال کرے گی اور منظور شدہ قرارداد کی کاپی صدر مملکت، وزیراعظم، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کو ارسال کی جائے گی۔

ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ کی تقسیم کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے قومی اسمبلی اور سیاسی حریفوں کو خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے مستقبل کا فیصلہ لاہور یا کسی دوسرے مقام پر بیٹھ کر نہیں کیا جا سکتا۔ ماضی میں بھی ون یونٹ کے قیام کے وقت عوام کے احساسات کو نظر انداز کیا گیا تھا، جس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ایم کیو ایم پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان کی پالیسیوں کو دوغلا پن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ایم کیو ایم کے رہنما انتظامی یونٹس کا مطالبہ کرتے ہیں اور دوسری طرف ایوان میں سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبادی یا گورننس کے نام پر صوبے کی تقسیم کو جواز نہیں بنایا جا سکتا، تاہم انتظامی اصلاحات، نئے اضلاع کے قیام اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کے لیے قانون سازی پر بات کی جا سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے