ڈیجیٹل غار کے قیدی
تحریر: سید نذیر شاہ
یونانی فلسفی افلاطون نے ڈھائی ہزار سال پہلے ایک غار کی تمثیل پیش کی تھی، جہاں کچھ قیدی بچپن سے اس طرح جکڑے ہوئے ہیں کہ وہ صرف اپنے سامنے موجود دیوار دیکھ سکتے ہیں۔ ان کے پیچھے ایک آگ جل رہی ہے اور جب اس آگ کے سامنے سے کوئی چیز گزرتی ہے تو اس کا سایا دیوار پر پڑتا ہے۔ وہ قیدی انہی سایوں کو کائنات کی کل حقیقت سمجھ بیٹھتے ہیں۔ آج کے جدید دور میں ہم نے اس غار کو توڑا نہیں بلکہ اس کی ہیئت بدل کر اسے اپنی جیبوں میں منتقل کر لیا ہے۔ ہمارا سمارٹ فون وہ جدید غار ہے جس کی سکرین پر الگورتھم کی آگ کے سائے ناچتے ہیں اور ہم اس کے سحر میں مبتلا قیدی بن چکے ہیں۔ اس قید خانے کی زنجیریں لوہے کی نہیں بلکہ ہمارے اپنے ہی دماغ میں موجود ایک کیمیائی مادے “ڈوپامین” کی بنی ہیں، جسے نیورو سائنس میں خوشی کا کیمیکل کہا جاتا ہے۔ جب ہم سوشل میڈیا کی لامتناہی سکرولنگ پر انگلی گھماتے ہیں تو ہر نیا لائک، تصویر یا مختصر ویڈیو ہمارے دماغ میں ڈوپامین کا ایک ننھا سا دھماکا کرتی ہے۔ یہی عارضی لذت ہمیں اس حد تک مفلوج کر دیتی ہے کہ ہم اس ڈیجیٹل غار سے باہر نکل کر حقیقی دنیا کی تلخ روشنی اور سچائی کا سامنا کرنے کے قابل نہیں رہتے۔
افلاطون کے قیدی صرف وہی دیکھ سکتے تھے جو ان کے پیچھے جلتی آگ دکھاتی تھی، اور آج یہی کردار سمارٹ فون کے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی الگورتھم ادا کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا ایک ایسی عالمگیر لت بن چکا ہے جس کی گرفت میں بچوں سے لے کر بوڑھے تک سب آ چکے ہیں۔ یہ الگورتھم ہمیں صرف وہی خبریں، آرا اور معلومات دکھاتے ہیں جو ہماری پہلے سے قائم پسند، تعصبات اور نظریات سے مطابقت رکھتی ہوں۔ اس طرح ہم ایک ایسے گونجتے ہوئے غار (ایکو چیمبر) میں قید ہو جاتے ہیں جہاں ہمیں اپنی ہی آواز بار بار پلٹ کر سنائی دیتی ہے، جو ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ صرف ہم ہی درست ہیں۔ یہ صورتحال محض تشویشناک نہیں بلکہ فکری طور پر خطرناک ہے، کیونکہ جب تنقیدی سوچ دم توڑ دیتی ہے تو انسان حقیقت کی تلاش چھوڑ کر صرف ان سایوں کا متلاشی بن جاتا ہے جو اس کے مزاج کے مطابق ہوں۔ افلاطون کے مطابق اگر کسی قیدی کو زبردستی غار سے نکال کر سورج کی روشنی میں لایا جائے تو ابتدا میں اس کی آنکھیں درد محسوس کرتی ہیں اور وہ واپس اندھیرے کی طرف بھاگنا چاہتا ہے۔ آج ہمیں بھی سکرین سے دور ہونے پر بالکل اسی بے چینی کا سامنا ہے، جس سے نکلنے کے لیے ہمیں فکری جرات پیدا کرنا ہوگی۔
اگر اس منظرنامے کو ملکی سطح پر دیکھا جائے تو پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچوں کا سکولوں سے باہر ہونا اور دوسری طرف نوجوان نسل کا سمارٹ فون کی ورچوئل دنیا میں پناہ لینا، ایک ہی بیمار معاشرتی تصویر کے دو رخ ہیں۔ جب ملک کے کروڑوں بچوں کو سکول کی بنیادی چھت میسر نہ ہو اور فارغ التحصیل نوجوانوں کے لیے روایتی روزگار کے دروازے بند ہوں تو معاشرے میں ایک بڑا فکری اور معاشی خلا پیدا ہوتا ہے۔ یہی خلا نوجوانوں کو چھ سات انچ کی سکرین پر سستی پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور کرتا ہے۔ ہمارے روایتی تعلیمی اداروں کا ڈھانچہ بھی جدید عالمی تقاضوں کو پورا کرنے میں ناکام نظر آتا ہے کیونکہ یہ مارکیٹ کی ضرورتوں کے مطابق خود کو ڈھالنے میں سست روی کا شکار ہیں۔ دوسری طرف، بڑوں کی تنقید کا روایتی طریقہ بھی ہمیشہ یہی رہا ہے کہ نوجوانوں کو سکرین سے دور رہنے اور کتاب کی طرف لوٹنے کی خشک نصیحت کی جائے، لیکن کوئی بھی انہیں اس کا اصل اور تعمیری متبادل فراہم کرنے پر بات نہیں کرتا۔
ہمیں یہ بنیادی نقطہ سمجھنا ہوگا کہ پرانی نسل کا طریقہ کار اوپر سے نیچے کی طرف صرف احکامات اور نصیحتیں جاری کرنے کا تھا، جبکہ نئی نسل یعنی “جنریشن زی” برابری، مکالمے اور شراکت داری پر یقین رکھتی ہے۔ یہ نوجوان چاہتے ہیں کہ انہیں محض نادان بچہ سمجھ کر سمجھانے کے بجائے اسٹیک ہولڈرز تسلیم کر کے فیصلوں میں شامل کیا جائے۔ آج کے دور میں کامیابی کا معیار روایتی ڈگری یا سرکاری نوکری تک محدود نہیں رہا، دنیا تیزی سے ڈیجیٹل معیشت کی طرف منتقل ہو چکی ہے۔ پاکستان کے موجودہ معاشی بحران میں، جہاں سکولوں کی کمی ایک بڑا چیلنج ہے، وہاں وفاق اور صوبوں کو ہنگامی بنیادوں پر نئے سکول قائم کرنے اور اساتذہ فراہم کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ اس تعلیمی ڈھانچے کی بحالی کے ساتھ ساتھ موجودہ نسل کو مایوسی کی دلدل سے نکالنے کا تیز ترین حل یہ ہے کہ انہیں جدید ٹیکنالوجی سے جوڑا جائے۔ اس سلسلے میں ڈیجیٹل اسکلز، ٹیوٹا، ای روزگار اور پرواز جیسے پروگرامز ایک خوش آئند متبادل ہیں جو نوجوانوں کو کوڈنگ، گرافک ڈیزائننگ، فری لانسنگ اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس جیسے عالمی مانگ کے شعبوں کی بنیادی سمجھ فراہم کر رہے ہیں۔
تاہم، ان تربیتی پروگراموں کی اصل کامیابی تب ہی ممکن ہے جب ان کا دائرہ کار صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہے بلکہ انہیں چھوٹے شہروں، دیہاتوں اور پسماندہ علاقوں تک پھیلایا جائے۔ پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں، بس انہیں درست وسائل کی ضرورت ہے۔ اگر ان علاقوں میں بھی ایسے جدید ٹریننگ سینٹرز قائم کیے جائیں جہاں نوجوانوں کو سمارٹ کٹس، روبوٹکس اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر عملی تجربات کے مواقع ملیں تو تعلیمی پسماندگی کا یہ خلا تیزی سے پُر کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح نوجوانوں کی “ڈیجیٹل آوارہ گردی” ایک مثبت معاشی سرگرمی میں بدل جائے گی۔ جب ایک دور دراز علاقے کے نوجوان کو گھر بیٹھے عالمی منڈی تک رسائی ملے گی اور وہ معقول آمدنی کمانے کے قابل ہوگا تو ملک میں حقیقی معاشی انقلاب آئے گا۔ چونکہ نوجوان زیادہ تر معلومات آن لائن میڈیا سے حاصل کرتے ہیں، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ سوشل میڈیا، ٹی وی اور ایف ایم ریڈیو کے ذریعے ان کورسز کی تشہیر کرے اور مقبول ڈیجیٹل انفلوئنسرز کو بطور سفیر استعمال کر کے نوجوانوں کی دلچسپی بڑھائے۔ یہ اقدامات نوجوانوں کو سکرین کی غلامی سے نکال کر تخلیق کی طرف لے جائیں گے۔
یہی وہ بنیادی فرق ہے جو ایک ڈیجیٹل غار اور ایک ڈیجیٹل پرواز کے درمیان ہوتا ہے۔ اس پورے عمل میں خوشی کا احساس (ڈوپامین) ختم نہیں ہوتا بلکہ اس کا ذریعہ بدل جاتا ہے۔ اب خوشی صرف سکرین سکرول کرنے سے نہیں بلکہ کچھ نیا سیکھ لینے، کچھ تخلیق کرنے اور خود کو روز بروز بہتر ہوتا دیکھنے سے ملتی ہے۔ حکومت اور معاشرے کو اب گلی محلوں کی سطح پر بھی ایسے کلب، لائبریریاں اور ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع کرنے ہوں گے تاکہ نوجوانوں کو اپنی پہچان کے لیے کسی عارضی وائرل ویڈیو کا سہارا نہ لینا پڑے۔ جس دن ہم نے نوجوانوں کو ایک بہتر متبادل اور حقیقی مقصد دے دیا، اس دن سوشل میڈیا ایک نشہ نہیں بلکہ صرف ایک ضرورت بن کر رہ جائے گا۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ زندگی کی سچائی اس رنگین سکرین کے پیچھے نہیں بلکہ اس غار سے باہر موجود حقیقی دنیا میں ہے جہاں تضادات، اختلافات اور تلخیاں تو ہیں مگر سچ اور حقیقی ترقی بھی وہی ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی نسل کو متبادل اور بامقصد مصروفیت فراہم نہ کی تو تاریخ ہمیں ایسے قیدیوں کے طور پر یاد رکھے گی جنہوں نے مصنوعی لذت کے بدلے اپنی فکری آزادی کا سودا کر لیا اور خود پسندی کا شکار ہو کر پانچ ہزار ورچوئل دوستوں کی لسٹ میں بھی تنہائی کا کونہ تلاش کرتے رہے۔