اوچ شریف (کیو این این ورلڈ/نامہ حبیب خان): موضع شیخ روشن کی رہائشی خاتون افشاں بی بی زوجہ عبدالقیوم بلوچ نے الزام عائد کیا ہے کہ اپنے دیوروں کے خلاف مقدمہ درج کرانے، اخبارات میں خبریں شائع کروانے اور انصاف کے حصول کے لیے اعلیٰ پولیس حکام سے رجوع کرنے کے بعد اسے مسلسل مبینہ دھمکیوں، ہراسانی اور ذہنی دباؤ کا سامنا ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ اگر مقدمہ درج ہونے کے باوجود اسے تحفظ فراہم نہیں کیا جا رہا تو متاثرہ افراد انصاف کے لیے کہاں جائیں؟

افشاں بی بی کے مطابق 28 جون کو اس کے دیور محمد نوید اور رحیم رضا مبینہ طور پر اس کے گھر میں داخل ہوئے اور مکان پر تعمیراتی کام شروع کر دیا۔ اعتراض کرنے پر دونوں افراد نے مبینہ طور پر بچوں کے سامنے اس پر تشدد کیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی، خاتون کو طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا اور بعد ازاں ڈی ایس پی احمدپور شرقیہ کی ہدایت پر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

خاتون کا کہنا ہے کہ ملزمان ضمانت حاصل کرنے کے بعد بھی اسے مبینہ طور پر مسلسل ہراساں کرتے رہے اور گھر سے بے دخل کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے۔ انصاف کے حصول کے لیے اس نے ڈی پی او بہاولپور، پنجاب حکومت کی شکایتی ہیلپ لائن 1787 اور بعدازاں 20 جولائی کو ڈی آئی جی بہاولپور کے دفتر سے بھی رجوع کیا، جہاں اس کی درخواست ایس پی انویسٹی گیشن کو بھجوا دی گئی، تاہم اس کے بقول اسے تاحال مؤثر تحفظ یا ریلیف فراہم نہیں کیا گیا۔

افشاں بی بی نے مزید الزام عائد کیا کہ ڈی آئی جی آفس سے واپسی پر اس نے اپنے کمرے کے تالے ٹوٹے ہوئے پائے جبکہ گھر سے قیمتی سامان بھی غائب تھا۔ اس واقعے کے بعد اس نے دوبارہ 15 ہیلپ لائن پر رابطہ کیا، لیکن اس کے مطابق مدد ملنے کے بجائے اسے مبینہ طور پر نامناسب رویے اور دھمکی آمیز گفتگو کا سامنا کرنا پڑا۔

متاثرہ خاتون کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس متعلقہ گفتگو کی ٹیلیفونک ریکارڈنگ موجود ہے، جسے وہ ثبوت کے طور پر اعلیٰ حکام کے سامنے پیش کرے گی۔ اس نے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب، آر پی او بہاولپور، ڈی آئی جی بہاولپور اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پورے معاملے کی شفاف، غیرجانبدارانہ اور فوری تحقیقات کرائی جائیں، مبینہ طور پر ہراساں کرنے والے اہلکاروں اور دیگر ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور اسے جان و مال کا مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔

خاتون کا کہنا ہے کہ وہ صرف انصاف اور قانونی تحفظ کی طلبگار ہے اور متعلقہ اداروں سے امید رکھتی ہے کہ اس کی شکایات کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے