پانی کا سیاسی استعمال ناقابل قبول ہے: شہباز شریف

بشکیک(کیو این این ورلڈ) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی خطے کی زندگی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے، اسے سیاسی مقاصد یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔ عالمی معاہدوں پر ان کی روح اور الفاظ کے مطابق مکمل عمل درآمد ضروری ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ عالمی امن و استحکام کے لیے ایس سی او ایک اہم پلیٹ فارم ہے اور تنظیم کے 25 سال مکمل ہونا اہم سنگ میل ہے۔ پاکستان ایس سی او کا فعال اور ذمہ دار رکن ہے اور تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ عالمی منظرنامہ بڑھتی جغرافیائی کشیدگی کا شکار ہے، جبکہ ایس سی او مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے اجتماعی عزم کی علامت ہے۔ حالیہ بحران نے محفوظ توانائی راہداریوں کی اہمیت واضح کردی ہے۔ پاکستان نے علاقائی بحران کے دوران امن کے لیے مؤثر کردار ادا کیا اور اس کی سفارتی کوششیں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط تک پہنچیں، جو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جنوبی ایشیا پائیدار امن کے بغیر اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کرسکتا۔ فلسطین کی صورتحال پر انہوں نے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں انسانی المیہ ناقابل تصور مصائب کا باعث ہے، عالمی برادری فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کا احترام کرے۔

دہشت گردی کے حوالے سے شہباز شریف نے کہا کہ یہ خطے کو درپیش سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دیں اور اسے 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔ پاکستان پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، تاہم افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک علاقائی معیشتوں کو بحیرہ عرب سے جوڑنے کا اہم ذریعہ ہے۔ پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ کے دوران توانائی، آئی ٹی، صحت، ثقافت اور کھیل کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر اور گورننس فریم ورک کی تجویز بھی پیش کی جائے گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی ایس سی او چیئرمین شپ کا مقصد وژن کو عمل میں تبدیل کرنا ہے۔ پاکستان ایس سی او کو تصور سے عمل کی جانب لے جانا چاہتا ہے، جبکہ رابطہ کاری، جدت اور مشترکہ خوشحالی ترجیحات میں شامل ہیں۔ ایس سی او ممالک مل کر بہتر مستقبل تشکیل دے سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے