ننکانہ صاحب (کیو این این ورلڈ/بیورو چیف احسان اللہ ایاز) پیر احمد شاہ روڈ پر تقریباً دو سال کی طویل مدت اور کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار کیا جانے والا پارکس کا منصوبہ حالیہ شدید بارش کے بعد مکمل طور پر پانی میں ڈوب گیا ہے۔ بارش کے اگلے روز بھی پارک میں کئی فٹ پانی کھڑا رہنے کے باعث منصوبے کے معیار، ڈیزائن، ڈرینیج سسٹم اور انتظامی نگرانی پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ پانی کے جمع رہنے سے قیمتی گھاس، آرائشی پودے اور ہارٹیکلچر کا کام شدید متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ پی ایچ اے ننکانہ صاحب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر بروقت نکاسیٔ آب کا مؤثر انتظام موجود ہوتا تو صورتحال اس قدر خراب نہ ہوتی۔

تحقیقی جائزے اور ماہرین کے مطابق کسی بھی جدید پارک کی تعمیر میں ڈرینیج سسٹم ایک بنیادی اور لازمی جزو ہوتا ہے تاکہ بارش کا پانی فوری طور پر خارج کر کے گھاس اور پودوں کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ طویل عرصے تک پانی کھڑا رہنے کی وجہ سے پودوں کی جڑیں متاثر ہوتی ہیں اور لینڈ اسکیپنگ کو بھاری نقصان پہنچتا ہے۔ اس صورتحال نے یہ سوالات اٹھا دیے ہیں کہ کیا پارک کی تعمیر کے وقت ڈرینیج کا باقاعدہ ڈیزائن تیار کیا گیا تھا، اور اگر ڈرینیج پلان موجود تھا تو بارش کا پانی بروقت خارج کیوں نہ ہو سکا۔ کیا تعمیراتی کام منظور شدہ ڈیزائن کے مطابق ہوا، اور قومی خزانے سے خرچ ہونے والے کروڑوں روپے کے تحفظ کے لیے معیار کی جانچ کیوں نہیں کی گئی۔

شہری حلقوں نے واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب رعنا حمید سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایک آزاد تکنیکی انکوائری قائم کریں۔ شہریوں کے مطابق انکوائری میں پارک کے ڈیزائن، ڈرینیج سسٹم، تعمیراتی معیار، فنڈز کے استعمال اور متعلقہ محکموں کی کارکردگی کا مکمل جائزہ لیا جائے۔

اس کے علاوہ ڈائریکٹر فنانس پی ایچ اے و چیف آفیسر ضلع کونسل گلشن نورین سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنا موقف عوام کے سامنے پیش کریں اور وضاحت کریں کہ ڈرینیج سسٹم مؤثر کیوں ثابت نہ ہو سکا۔ شہریوں نے زور دیا ہے کہ اگر انکوائری میں منصوبہ بندی یا تعمیراتی معیار میں غفلت ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افسران کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں عوامی وسائل کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
