ڈیفنس لاہور میں غیر ملکی خاتون سے مبینہ زیادتی، پولیس کی تفتیش جاری

لاہور (کیو این این ورلڈ): لاہور کے علاقے ڈیفنس میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ غیر ملکی خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے مرکزی ملزم محسن کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ مزید افراد کو حراست میں لے کر واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

پولیس کے مطابق شاہدرہ سے حراست میں لیے گئے 6 افراد مبینہ طور پر مرکزی ملزمان کے قریبی دوست ہیں اور ان کے مبینہ ملزمان سے رابطے رہے ہیں۔ زیرحراست افراد سے تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ واقعے میں ان کے ممکنہ کردار اور مبینہ ملزمان سے تعلق کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکیں۔ حالیہ رپورٹس میں کیس کے سلسلے میں مختلف مقامات سے مزید افراد کو بھی پوچھ گچھ کیلئے حراست میں لیے جانے کا ذکر سامنے آیا ہے۔

پولیس کے مطابق واقعے کی اطلاع کے بعد ڈیفنس سی تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ متاثرہ خاتون نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ دو نامعلوم خواتین اسے ایک کیفے میں لے گئیں، جہاں تین مرد پہلے سے موجود تھے۔ بعد ازاں اسے ایک فلیٹ میں لے جایا گیا جہاں مبینہ طور پر اسے نشہ آور چیز دی گئی اور اس کے بعد تین افراد نے مبینہ طور پر اسے زیادتی کا نشانہ بنایا۔

پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون کو مبینہ واقعے کے بعد ایئرپورٹ کے قریب چھوڑ دیا گیا تھا۔ خاتون نے پولیس کو دی گئی درخواست میں واقعے کی تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مقدمے کے اندراج کے بعد پولیس نے ملزمان کی تلاش شروع کردی اور مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے۔

پولیس حکام کے مطابق کیس میں مبینہ طور پر ملوث افراد کی شناخت کرلی گئی ہے اور ان کی گرفتاری کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور سید ذیشان رضا کے مطابق تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کیلئے کارروائی جاری ہے۔

کیس کی تفتیش میں میڈیکل، فارنزک اور دیگر شواہد کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔ متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ کیا گیا ہے، جبکہ تفتیشی حکام واقعے سے متعلق دستیاب موبائل ڈیٹا اور دیگر شواہد کو بھی تحقیقات کا حصہ بنا رہے ہیں۔

متاثرہ خاتون کی جانب سے واقعے سے متعلق بیان بھی ریکارڈ کرایا گیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق 20 سالہ آذربائیجانی خاتون نے 28 ستمبر کو مجسٹریٹ کے سامنے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران خاتون کی پاکستان آمد و رفت، لاہور میں قیام اور مختلف افراد سے رابطوں سے متعلق معلومات بھی جمع کی جا رہی ہیں۔ پولیس نے بتایا ہے کہ خاتون ماضی میں بھی پاکستان آچکی ہیں اور ان کے سفری ریکارڈ اور کاروباری سرگرمیوں سے متعلق معلومات کو بھی تفتیش میں شامل کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور کسی بھی فرد کے کردار کا تعین دستیاب شواہد، میڈیکل و فارنزک رپورٹس اور بیانات کی روشنی میں کیا جائے گا۔ مختلف مقامات پر کارروائیاں جاری ہیں جبکہ دیگر مبینہ ملزمان اور سہولت کاروں کی گرفتاری کیلئے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق حتمی نتیجہ تمام شواہد، فارنزک رپورٹس، میڈیکل رپورٹ اور فریقین کے بیانات کی مکمل جانچ پڑتال کے بعد سامنے آئے گا۔ معاملہ زیر تفتیش ہے اور پولیس کی جانب سے مزید گرفتاریوں اور تحقیقات میں پیش رفت متوقع ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے