سیالکوٹ (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف مدثر رتو)سیالکوٹ انٹرنیشنل ائیرپورٹ نے قطر ایئرویز کی پرواز کی مقبوضہ جموں میں ہنگامی لینڈنگ سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرواز نے مقررہ شیڈول کے مطابق سیالکوٹ ائیرپورٹ پر لینڈ کیا اور بعد ازاں دوحا کے لیے روانہ ہوگئی۔
ترجمان سیالکوٹ انٹرنیشنل ائیرپورٹ عمیر خان کے مطابق دوحا سے آنے والی قطر ایئرویز کی پرواز نے 27 ستمبر کی صبح سیالکوٹ ائیرپورٹ پر لینڈ کیا اور شیڈول کے مطابق دوبارہ دوحا کے لیے اڑان بھری۔ ان کا کہنا تھا کہ پرواز کی مقبوضہ جموں میں لینڈنگ کی خبر درست نہیں۔
ترجمان کے مطابق فلائٹ ریڈار 24 پر تکنیکی خرابی، جی پی ایس کی غلط معلومات اور سگنلز میں مداخلت کے باعث پرواز کو غلط مقام پر دکھایا گیا۔ قطر سے آنے والی پرواز نے مقبوضہ جموں کے بجائے سیالکوٹ انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر لینڈ کیا، جس کی تصدیق پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی کے ریڈار سسٹم سے بھی کی جاسکتی ہے۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر اور سیالکوٹ کے اطراف جی پی ایس سگنلز میں غیرمعمولی مداخلت کے باعث فلائٹ ٹریکنگ میں اس نوعیت کی گڑبڑ کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ جی پی ایس اسپوفنگ، سگنلز جمپنگ، لوکیشن گلچز یا اے ڈی ایس بی ڈیٹا ایرر کی وجہ سے بعض اوقات تھرڈ پارٹی فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس پر طیاروں کا مقام درست ظاہر نہیں ہوتا۔
ماہرین کے مطابق ماضی میں بھی سیالکوٹ اور علامہ اقبال ائیرپورٹ سے متعلق بعض پروازوں کے ساتھ ایسا ہوچکا ہے۔ 26 جون کو دبئی کی پرواز ایف زیڈ 337 نے معمول کے مطابق سیالکوٹ ائیرپورٹ پر لینڈ کیا، تاہم فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا میں اسے مقبوضہ جموں کی جانب ڈائیورٹ ظاہر کیا گیا۔ اسی طرح 27 جون کو شارجہ کی پرواز جی 9552 اور دبئی کی پرواز ایف زیڈ 337 کی لوکیشن بھی لینڈنگ اپروچ کے دوران ڈیٹا ایرر کے باعث جموں ائیرپورٹ کی جانب ظاہر ہوئی تھی۔
ایوی ایشن ماہرین کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ اور جموں کے درمیان فاصلہ تقریباً 40 کلومیٹر ہے، اس لیے جی پی ایس سگنلز میں خرابی یا لوکیشن گلچز کی صورت میں فلائٹ ٹریکنگ میپ پر قریبی مقام غلطی سے متبادل لینڈنگ پوائنٹ کے طور پر ظاہر ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کا ریڈار یا ٹریکنگ ڈیٹا ایرر لازماً طیارے کے اپنے نیوی گیشن سسٹم میں خرابی کی علامت نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات سیٹلائٹ سگنلز اور تھرڈ پارٹی ٹریکنگ ویب سائٹس کے ڈیٹا میں مطابقت نہ ہونے سے بھی ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔