شادی سے پہلے زندگی کے اس خاص دن کی تیاریاں کرنا ہر لڑکی کا خواب ہوتا ہے مگر مشرقی چین سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان دلہن کے لیے یہ خواب ایک بھیانک حقیقت میں بدل گیا۔ 24 سالہ وانگ رانرن، جن کا تعلق صوبہ شانگ ڈونگ سے ہے، محض عام موسمی نزلہ زکام کا علاج کراتے ہوئے غلط انجیکشن کے باعث 3 ماہ کے لیے کوما میں چلی گئیں۔
واقعات کے مطابق جنوری میں وانگ کو گلے میں تکلیف محسوس ہوئی جسے عام موسمی بیماری سمجھتے ہوئے انہوں نے قریبی کلینک سے رجوع کیا۔ وہاں موجود ایک مبینہ ڈاکٹر نے الرجی ٹیسٹ کیے بغیر ہی انہیں ایک انجیکشن لگا دیا جس کے چند منٹ بعد ہی وانگ کی طبیعت بگڑ گئی، زبان سن ہو گئی اور انہیں سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
طبی معائنے میں انکشاف ہوا کہ الرجی کے شدید ردعمل کے باعث وانگ کے دماغ کو 4 منٹ تک آکسیجن کی فراہمی معطل رہی جس سے اسے ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ تحقیقات کے دوران یہ لرزہ خیز حقیقت بھی سامنے آئی کہ جس خاتون نے وانگ کو انجیکشن لگایا تھا وہ درحقیقت ڈاکٹر ہی نہیں تھی۔ وانگ کے منگیتر زینگ نے کلینک کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
تقریباً 92 دن تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد وانگ رانرن اپنی شادی سے محض 2 روز قبل 23 اپریل کو ہوش میں آگئیں۔ انہوں نے آنکھیں کھول کر اپنے منگیتر کو پہچان لیا اور اسے دیکھ کر مسکرائیں، تاہم وہ ابھی بولنے کی سکت نہیں رکھتیں۔ کیس کی تحقیقات تاحال جاری ہیں اور قانونی فیصلے و ہرجانے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔