شخصیات رخصت ہو جاتی ہیں، مگر کردار اور خدمات تاریخ میں زندہ رہتے ہیں

کھوسہ ہاؤس: اقتدار سے بالاتر ایک سیاسی و قبائلی طاقت
تحریر: جواد اکبر بھٹی، ڈیرہ غازی خان
(چراغِ آگہی)

پاکستانی سیاست میں کچھ شخصیات اور خاندان ایسے ہوتے ہیں جن کی اہمیت کا پیمانہ صرف اقتدار نہیں ہوتا بلکہ ان کا اثر و رسوخ، عوامی روابط، سیاسی بصیرت اور قبائلی وقار انہیں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ کھوسہ خاندان بھی انہی چند خانوادوں میں شامل ہے جنہوں نے دہائیوں تک جنوبی پنجاب ہی نہیں بلکہ قومی سیاست میں اپنی ایک الگ شناخت برقرار رکھی۔

سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ مرحوم کا شمار ملک کے سینئر ترین سیاسی و قبائلی رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں وفاداری، ثابت قدمی اور اصول پسندی کی ایسی مثال قائم کی جسے آج بھی احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے مشکل ترین دور میں جب بہت سے سیاسی چہرے راستے بدل رہے تھے، سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ اپنی جماعت کے ساتھ کھڑے رہے اور سیاسی استقامت کی ایک روشن مثال بنے۔

گزشتہ چند برسوں سے کھوسہ خاندان براہِ راست حکومتی ایوانوں میں نمایاں کردار ادا نہیں کر رہا تھا، جس کے باعث بعض سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ شاید کھوسہ خاندان کا سیاسی سورج غروب ہو چکا ہے۔ تاہم سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کے انتقال کے بعد کھوسہ ہاؤس میں ملک بھر کی سیاسی، قبائلی اور مذہبی قیادت کی غیر معمولی آمد نے اس تاثر کو یکسر غلط ثابت کر دیا، بلکہ چار ماہ گزرنے کے بعد تک یہ سلسلہ نہ تھم سکا۔

سابق وزیراعظم و چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، سردار عبد الرحمن کھیتران، ن لیگ کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان، وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ، سجادہ نشین دربار فرید خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ، خواجہ عامر کوریجہ، چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مولانا عبد الخبیر آزاد، مخدوم احمد محمود خان، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس خان لغاری اور مختلف صوبوں کے گورنرز، وفاقی و صوبائی وزراء، قبائلی عمائدین اور سیاسی شخصیات کی مسلسل آمد نے واضح کر دیا کہ کھوسہ خاندان آج بھی قومی سطح پر ایک بااثر اور قابلِ احترام سیاسی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ بلوچستان سے خیبر پختونخوا، سندھ سے کشمیر تک مختلف مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کا کھوسہ ہاؤس کا رخ کرنا دراصل سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کی شخصیت اور خدمات کا اعتراف تھا۔

سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کا اصل اثاثہ ان کے وسیع سیاسی تعلقات، عوامی خدمت اور رواداری پر مبنی سیاست تھی، جو آج بھی ان کے خاندان کی سیاسی طاقت کا سرچشمہ ہے۔ ان کے فرزندان اسی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کھوسہ ہاؤس آج بھی جنوبی پنجاب کی سیاست میں ایک اہم حوالہ سمجھا جاتا ہے۔

خصوصاً سردار دوست محمد خان کھوسہ اپنی منفرد شخصیت، وسیع حلقۂ احباب اور سیاسی بردباری کے باعث نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ کھوسہ ہاؤس میں مختلف سیاسی و سماجی شخصیات کی مسلسل آمد میں سردار دوست محمد خان کھوسہ کا بھی اہم کردار رہا۔ ان کی سیاست ذاتی مفادات کے بجائے انسانی تعلقات، رواداری اور خدمت کے اصولوں پر استوار نظر آتی ہے۔ وہ ان سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں جو اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں بناتے بلکہ سیاسی عمل کا حصہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے چاہنے والے صرف ان کی جماعت تک محدود نہیں بلکہ مختلف سیاسی مکاتبِ فکر میں بھی موجود ہیں۔

کھوسہ خاندان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اصل سیاسی قوت صرف وزارتوں اور عہدوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ بعض شخصیات اور خاندان اپنے کردار، عوامی اعتماد اور تاریخی خدمات کی وجہ سے ایک ادارے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ کھوسہ ہاؤس بھی ایسے ہی سیاسی مراکز میں شامل ہے جس کی اہمیت وقت گزرنے کے ساتھ کم ہونے کے بجائے مزید نمایاں ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ مرحوم آج جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی سیاسی بصیرت، اصول پسندی اور عوامی خدمت کی روایت آج بھی زندہ ہے۔

اللہ تعالیٰ سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

"شخصیات رخصت ہو جاتی ہیں، مگر کردار اور خدمات تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے