حج آرگنائزرز کا حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ، نجی حج سیکٹر بحران کے دہانے پر

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ/نصیب شاہ شینواری کی رپورٹ) حج آرگنائزرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (HOAP) کے سنٹرل سیکریٹریٹ اسلام آباد میں HOAP کی سنٹرل ایگزیکٹو باڈی، ملک بھر کے 904 رجسٹرڈ حج آرگنائزرز (HGOs) اور نمائندہ منتظمین کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ مذہبی امور کی جانب سے نجی حج اسکیم کے کوٹہ میں مسلسل کمی، RLs کے اجرا میں سامنے آنے والی صورتحال اور حج آرگنائزرز کے نام خارج کیے جانے پر شدید تشویش اور تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ حالیہ جاری ہونے والے RLs میں متعدد حج آرگنائزرز کے نام شامل نہیں کیے گئے، جس کے باعث نہ صرف حج آرگنائزرز بلکہ ان کے ساتھ رجسٹریشن کروانے والے سینکڑوں عازمینِ حج بھی شدید بے چینی اور اضطراب کا شکار ہیں۔ شرکاء کے مطابق اس اقدام سے نجی حج سیکٹر کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوں گی اور اس فیصلے پر فوری نظرثانی ناگزیر ہے۔

اجلاس میں اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا گیا کہ گزشتہ کئی برسوں سے نجی حج اسکیم کا کوٹہ مسلسل کم کیا جا رہا ہے۔ شرکاء نے کہا کہ رواں سال پروریٹا سسٹم کے بجائے کوٹہ کو یکساں طور پر دو، دو ہزار تک محدود کر دیا گیا ہے، جس سے ملک بھر میں کام کرنے والے سینکڑوں فعال حج آرگنائزرز کے لیے اپنے دفاتر، ملازمین اور کاروباری ڈھانچے کو برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ HOAP کی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف اور سیکریٹری وزارتِ مذہبی امور سے ملاقات کر کے نجی حج اسکیم سے متعلق تمام تحفظات اور خدشات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اور سیکریٹری نے HOAP وفد کو یقین دہانی کرائی کہ پیش کیے گئے نکات کو نوٹ کر لیا گیا ہے اور ان پر غور کیا جائے گا۔

شرکاء نے اس بات پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا کہ گزشتہ حج سیزن میں پاکستان کے نجی حج سیکٹر نے سعودی عرب کی مقررہ ٹائم لائن کی بروقت تکمیل، بہترین انتظامات اور اعلیٰ کارکردگی کے ذریعے پاکستان کے لیے نمایاں اعزازات حاصل کیے، تاہم اس کے باوجود نجی حج اسکیم کا کوٹہ بڑھانے کے بجائے مزید کم کر دیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ حالیہ RLs کے ذریعے کوٹہ میں مزید کمی کرتے ہوئے اسے 30 فیصد تک محدود کر دیا گیا ہے، جس سے پورے نجی حج سیکٹر کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

اجلاس کے شرکاء نے متفقہ طور پر کہا کہ ملک بھر کے 904 رجسٹرڈ حج آرگنائزرز کئی دہائیوں سے لاکھوں پاکستانی عازمینِ حج کی خدمت کر رہے ہیں اور سعودی عرب میں پاکستان کے نجی حج سیکٹر کی نیک نامی اور ساکھ کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ ایسے میں ان کے جائز حقوق، کاروباری استحکام اور خدمات کو متاثر کرنے والے فیصلوں پر فوری نظرثانی کی جانی چاہیے۔

اجلاس میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی کہ 2025 میں سعودی ٹائم لائن بروقت مکمل نہ ہونے کے باعث نجی حج سیکٹر کو ایک غیر معمولی بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی اور بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو رواں سال اس سے بھی بڑا بحران جنم لے سکتا ہے، جس کے منفی اثرات ہزاروں پاکستانی عازمینِ حج، سینکڑوں حج کمپنیوں اور پاکستان کی بین الاقوامی ساکھ پر مرتب ہوں گے۔

اجلاس کے شرکاء نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ نجی حج اسکیم کے کوٹہ میں کی گئی کمی پر فوری نظرثانی کی جائے، حج کوٹے سے خارج کیے گئے حج آرگنائزرز کے نام دوبارہ شامل کیے جائیں، قواعد و ضوابط کے مطابق کام کرنے والے حج آرگنائزرز کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے اور نجی حج اسکیم کے مستقبل سے متعلق تمام فیصلے HOAP اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد کیے جائیں۔

اجلاس کے اختتام پر HOAP کی سنٹرل ایگزیکٹو باڈی اور ملک بھر کے 904 رجسٹرڈ حج آرگنائزرز نے وفاقی حکومت اور وزارتِ مذہبی امور سے پرزور اپیل کی کہ معاملے کی حساسیت اور نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ پاکستان کے نجی حج سیکٹر کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے اور عازمینِ حج کو کسی ممکنہ بحران سے بچایا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے