جنترمنتر اور کاکروچ

جنتر منتر
تحریر: سید نذیر شاہ

15 مئی 2026 کو بھارت کی سپریم کورٹ میں ایک معمول کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت کی زبان سے ایک ایسا جملہ نکلا جس نے چند ہی گھنٹوں میں پورے ملک میں سیاسی بحث چھیڑ دی۔ انہوں نے بے روزگار نوجوانوں اور بعض سماجی کارکنوں کو "کاکروچ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگ کبھی صحافی اور کبھی آر ٹی آئی (Right to Information) کے رکن بن کر ہر معاملے میں مداخلت کرتے ہیں۔ بعد میں انہوں نے وضاحت دی کہ ان کا اشارہ صرف جعلی ڈگریوں کے ذریعے نظام کا غلط استعمال کرنے والوں کی طرف تھا، مگر تب تک یہ لفظ عدالت سے نکل کر سوشل میڈیا کے ذریعے کروڑوں لوگوں تک پہنچ چکا تھا اور اسے توہین کے بجائے مزاحمت کی علامت بنا دیا گیا۔

اگلے ہی روز، 16 مئی 2026 کو، ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ کارکن ابھیجیت دیپکے، جو ماضی میں عام آدمی پارٹی کے لیے بھی کام کر چکے تھے، نے اسی لفظ کو احتجاج کی طاقت میں بدل دیا۔ انہوں نے "کاکروچ جنتا پارٹی” کے نام سے ایک طنزیہ مہم شروع کی، جو نام کے اعتبار سے حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی پر ایک سیاسی طنز بھی تھا۔ اس کا نعرہ رکھا گیا، "سست اور بے روزگار افراد کی آواز”۔ چند ہی دنوں میں ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ افراد اس مہم کا حصہ بن گئے، جبکہ انسٹاگرام پر اس کے پیروکاروں کی تعداد دو کروڑ سے تجاوز کر گئی۔ یہ تعداد بھارت کی بڑی سیاسی جماعتوں کے کئی سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارموں سے بھی زیادہ بتائی گئی۔

جنریشن زی (Gen Z)، یعنی 1997ء سے 2012ء کے درمیان پیدا ہونے والی نسل کی اس غیر معمولی آن لائن مہم نے جلد ہی عالمی توجہ حاصل کر لی۔ سوشل میڈیا سے شروع ہونے والی یہ تحریک 5 جون کو نئی دہلی کے احتجاجی مقام جنتر منتر تک جا پہنچی، جہاں اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا اور دیگر طلبہ تنظیموں نے باقاعدہ دھرنا دیا۔ ان کے مطالبات میں انٹری ٹیسٹ (NEET) کے پرچے لیک ہونے کی شفاف تحقیقات، سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن، جو بھارت کا ایک بڑا تعلیمی ادارہ ہے، کی مارکنگ میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا فوری استعفیٰ شامل تھا۔

نوجوانوں کی اس متحرک تحریک کو مزید طاقت اس وقت ملی جب 28 جون 2026 کو لداخ کے معروف ماہرِ تعلیم، موجد اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگ چک بھی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھ کر اس کا حصہ بن گئے۔ یاد رہے کہ مشہور بھارتی فلم "تھری ایڈیٹس” میں عامر خان کا کردار ان سے متاثر ہو کر تخلیق کیا گیا تھا۔

جنتر منتر کے احتجاجی کیمپ کی کہانیاں مودی حکومت کے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی غصے کی عکاسی کرتی تھیں۔ وہاں ہندو، مسلمان، سکھ طلبہ، مولوی اور پنڈت سب ایک ساتھ دھرنے میں شریک نظر آئے، جبکہ مسلمان نوجوان بلا تفریق سب کے لیے مفت کھانا تقسیم کرتے رہے۔ اس منظر نے مودی حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی پر لگنے والے مسلم مخالف رویے کے الزامات کے تناظر میں ایک مختلف تصویر پیش کی۔

احتجاج میں مودی مخالفت کا جذبہ اس قدر شدید تھا کہ کوئی نوجوان جیب میں محض چند سو روپے لے کر دہلی پہنچا، تو کوئی اپنے گھر والوں کو بتائے بغیر اس تحریک میں شامل ہوا۔ ایک کم عمر بچی زخمی ہونے کے باوجود میدان چھوڑنے پر تیار نہیں تھی۔ اسی کیمپ میں کئی طلبہ نے بتایا کہ ان کا خاندان مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا روایتی حامی ہے، لیکن ناانصافی کے اس ماحول میں حکومت کے فیصلوں پر خاموش رہنا اب ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔

20 جولائی کو جب ہزاروں مظاہرین پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے نکلے تو پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس نے راستے بند کر دیے۔ لاٹھی چارج، آنسو گیس اور پیلٹ گنوں کے استعمال کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اگلے روز تک جھڑپیں جاری رہیں، جن میں سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کو بھی حراست میں لیا گیا، جبکہ سونم وانگ چک کو احتجاجی مقام سے زبردستی ہٹا دیا گیا۔

کئی ہفتوں تک حکومت اس تحریک کو نظر انداز کرتی رہی، لیکن جب پارلیمنٹ مارچ نے ملکی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کی تو حکومت کو مذاکرات کی میز پر آنا پڑا۔ 25 جولائی کو مذاکرات کے نتیجے میں وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا، نیٹ امتحان سے متاثرہ طلبہ کے خاندانوں کے لیے مالی امداد، مظاہرین کے خلاف مقدمات ختم کرنے اور تعلیمی اصلاحات سے متعلق متعدد مطالبات تسلیم کر لیے گئے اور احتجاجی مہم استعفے کے بعد ختم ہو گئی۔

اس احتجاجی مہم کے تناظر میں پاکستانی نوجوانوں کو محض سست یا بے حس قرار دینا نہ صرف حقائق سے چشم پوشی ہے بلکہ ان پیچیدہ حالات کو نظر انداز کرنے کے مترادف بھی ہے جن میں وہ اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی خاموشی دراصل بے حسی نہیں، بلکہ معاشی دباؤ، بے روزگاری، تعلیمی بحران، سیاسی غیر یقینی، اظہارِ رائے پر موجود خدشات اور ماضی کے تلخ قومی تجربات سے جنم لینے والی ایک محتاط سوچ کا اظہار ہے۔

ہر معاشرہ اپنے سیاسی، آئینی اور سماجی حالات کے مطابق ردِعمل دیتا ہے، اس لیے بھارت اور پاکستان کے نوجوانوں کے رویوں کو ایک ہی پیمانے سے ناپنا نہ علمی دیانت کے مطابق ہے اور نہ ہی زمینی حقائق سے مطابقت رکھتا ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ کون زیادہ بلند آواز میں احتجاج کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ریاستیں اپنے نوجوانوں کی آواز کو کس حد تک سننے، سمجھنے اور آئینی و جمہوری دائرے میں اس کا حل نکالنے کی اہل ہیں۔ کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے نوجوانوں کی خاموشی یا شور سے نہیں، بلکہ اس اعتماد سے تشکیل پاتا ہے جو ریاست اور شہریوں کے درمیان قائم ہوتا ہے۔

لہٰذا، پاکستان میں بظاہر خاموشی بے حسی نہیں بلکہ اس خطرے کا گہرا احساس ہے کہ کسی بھی غیر محتاط احتجاج کے نتیجے میں سیاسی نظام کے درہم برہم ہونے اور غیر آئینی مداخلت کے امکانات تیزی سے بڑھ جاتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے