اسلام آباد(کیو این این ورلڈ)وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں اگر آئین کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کی ضرورت اور مقررہ شرائط پوری ہوتی ہیں تو ایمرجنسی لگنی چاہیے اور لگے گی بھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس حوالے سے آئین میں طریقہ کار اور ضروریات درج ہیں اور کسی بھی اقدام کا فیصلہ انہی آئینی تقاضوں کے مطابق ہوگا۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ سے متعلق سوال پر کہا کہ ایمرجنسی کے اطلاق کے حوالے سے آئین بالکل واضح ہے۔
صحافی نے سوال کیا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی بات ہو رہی ہے، کیا اس حوالے سے کوئی طریقہ کار زیر غور ہے اور اگر ہے تو وہ کیا ہوگا؟ اس پر وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ حالات ایسے ہیں کہ اگر آئین اس کا تقاضا کرے تو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگنی چاہیے اور لگے گی بھی۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین میں ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے جو ضروریات اور شرائط درج ہیں، اگر وہ پوری ہوں تو آئینی طریقہ کار کے مطابق یہ اقدام کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فیصلہ کسی غیر آئینی طریقے سے نہیں بلکہ آئین میں موجود طریقہ کار کے تحت ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئین کا میکنزم بالکل واضح ہے اور جب آئینی تقاضا ہوگا تو اسی کے مطابق تمام اقدامات کیے جائیں گے۔
اعظم نذیر تارڑ کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور صوبائی و وفاقی حکومتوں کے درمیان اختلافات کے باعث وفاقی مداخلت، ایمرجنسی اور گورنر راج کے امکانات پر سیاسی بحث جاری ہے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں کے باعث اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت، انتظامیہ اور پولیس سمیت تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لے کر نئی سکیورٹی پالیسی تشکیل دی جانی چاہیے۔
خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی کہا ہے کہ صوبائی حکومت کو ایسے حالات پیدا نہیں کرنے چاہئیں جن کی وجہ سے گورنر راج نافذ کرنے کی ضرورت پیش آئے، جبکہ انہوں نے کہا کہ اگر صدر آصف علی زرداری گورنر راج کے نفاذ کا حکم جاری کرتے ہیں تو اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔
اس تمام صورتحال کے تناظر میں وفاقی وزیر قانون کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی سمیت کسی بھی آئینی اقدام کا فیصلہ آئین میں مقررہ شرائط اور طریقہ کار پورا ہونے کی صورت میں ہی کیا جائے گا۔