پاکستان سمیت دنیا بھر کے جرائد نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا جھوٹ پر مبنی سیاسی بیانیہ بے نقاب کر دیا۔

لاہور: (کیو این این ورلڈ) پاکستان میں قید سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سے متعلق ان کے اہلخانہ اور جماعت کی جانب سے جیل میں مبینہ بدسلوکی، ذہنی اذیت، تنہائی اور طبی غفلت کے الزامات پر عالمی میڈیا میں پاکستانی حکومت کا مؤقف نمایاں ہوگیا، حکومت نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے عمران خان کو عدالتوں سے سزا یافتہ قیدی قرار دیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکومت نے عمران خان کے اہلخانہ اور پی ٹی آئی کی جانب سے جیل میں مبینہ سختیوں، ذہنی اذیت، تعزیری تنہائی اور طبی غفلت کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ پاکستانی وزارت اطلاعات کے مطابق عمران خان کسی حکومتی حکم پر نہیں بلکہ عدالتوں کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں کے بعد جیل میں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حکومت نے عمران خان کو مکمل تنہائی میں رکھنے اور اہلخانہ، وکلا یا دیگر متعلقہ افراد سے رابطے سے محروم رکھنے کے الزامات بھی مسترد کیے ہیں۔ وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ اگست 2023 میں گرفتاری کے بعد عمران خان سے اہلخانہ، وکلا، ڈاکٹروں، سیاسی نمائندوں اور دیگر منظور شدہ افراد کی 900 سے زائد ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔

حکومتی مؤقف کے مطابق عمران خان کو اپنی اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقات کی اجازت حاصل ہے، جبکہ پاکستان اور بیرون ملک موجود رشتہ داروں سے ٹیلی فون، لینڈ لائن اور واٹس ایپ کے ذریعے رابطے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ وزارت اطلاعات کے مطابق عمران خان کے بیٹوں میں سے ایک کے ساتھ آخری ریکارڈ شدہ ٹیلی فونک گفتگو 21 مارچ کو ہوئی، جبکہ ان کی بہنوں نے 18 اور 19 اگست کو بھی ان سے ملاقات کی۔

پاکستانی حکومت نے عمران خان کو طبی سہولیات فراہم نہ کیے جانے کے الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے تقریباً 30 مرتبہ ماہر ڈاکٹروں اور میڈیکل بورڈز سے طبی معائنے کیے جاچکے ہیں۔ حکام کے مطابق ان طبی معائنوں میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز)، شفا انٹرنیشنل ہسپتال، شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال سمیت مختلف طبی اداروں کے ماہرین شامل رہے ہیں۔

دوسری جانب عمران خان کے اہلخانہ اور پی ٹی آئی نے حکومتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے ان کی صحت، ملاقاتوں اور طبی سہولیات سے متعلق اپنے تحفظات برقرار رکھے ہیں۔ عمران خان کی بہن عظمٰی خان نے دعویٰ کیا کہ ملاقات کے دوران عمران خان نے انہیں تنہائی میں رکھے جانے کی شکایت کی، جسے انہوں نے ذہنی اذیت قرار دیا۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے بھی حکومت پر سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے ہیں۔

یہ معاملہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کرگیا جب سپریم کورٹ نے 18 اگست کو عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے اور ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دیا۔ عدالت نے عمران خان کو اہلخانہ سے ہفتہ وار ملاقات اور اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک رابطے کی بھی اجازت دی تھی۔

پاکستانی حکومت نے بعدازاں سپریم کورٹ کے اس حکم پر نظرثانی کی درخواست دائر کی اور مؤقف اختیار کیا کہ قیدیوں کو طبی سہولیات کی فراہمی میں امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔ حکومت کے مطابق عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کے بجائے سرکاری ہسپتال لے جانے کا فیصلہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق عمران خان کو 20 اگست کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز لے جایا گیا، جہاں طبی معائنے کے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔ حکومتی حکام کے مطابق ڈاکٹروں نے انہیں طبی طور پر فِٹ قرار دیا، جبکہ پی ٹی آئی نے اس اقدام کو سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی قرار دیا۔

عمران خان کی صحت سے متعلق تنازع رواں سال جنوری میں اس وقت شدت اختیار کرگیا تھا جب ان کے اہلخانہ نے دعویٰ کیا کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی تقریباً 85 فیصد متاثر ہوگئی ہے۔ حکومت نے اس دعوے کی تردید کی تھی، جبکہ بعدازاں حکام کی جانب سے کہا گیا کہ ان کی بینائی میں بہتری آئی ہے۔

عالمی میڈیا کی حالیہ رپورٹس میں عمران خان کے اہلخانہ اور پی ٹی آئی کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کے ساتھ ساتھ پاکستانی حکومت کا تفصیلی مؤقف، ملاقاتوں کا ریکارڈ اور طبی معائنے سے متعلق سرکاری تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ دستیاب ریکارڈ اس کے مؤقف کی تائید کرتا ہے اور عمران خان کو جیل میں طبی سہولیات، اہلخانہ سے ملاقات اور رابطے کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔

یوں عمران خان کی جیل، صحت اور ملاقاتوں سے متعلق جاری تنازع میں عالمی میڈیا کے ذریعے حکومتی مؤقف اور پی ٹی آئی کے دعوے دونوں بین الاقوامی سطح پر زیرِ بحث آئے ہیں، تاہم پاکستانی حکومت نے پی ٹی آئی اور اہلخانہ کی جانب سے عائد تمام الزامات کو واضح طور پر مسترد کردیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے