برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی حکومت سے وابستہ ہیکرز نے گزشتہ ماہ مبینہ طور پر ایک برطانوی پاور پلانٹ پر سائبر حملہ کرکے اسے چار روز تک مکمل طور پر بند رکھا۔
اخبار کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جس میں ایرانی حکومت سے وابستہ ہیکرز برطانیہ میں کسی پاور تنصیب کو سائبر حملے کے ذریعے مکمل طور پر بند کرنے میں کامیاب ہوئے۔
دی ٹیلی گراف کے مطابق یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب امریکا میں پانی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے کو بھی سائبر حملوں کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ ان حملوں سے امریکا کی 12 ریاستیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد وائٹ ہاؤس میں بھی تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔
برطانوی حکام نے سیکیورٹی خدشات کے باعث متاثرہ پاور پلانٹ کی شناخت ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق پلانٹ چار روز تک مکمل طور پر غیر فعال رہا اور اس دوران عملہ اسے دوبارہ فعال کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کرتا رہا۔
اخبار کا کہنا ہے کہ متاثرہ پلانٹ ممکنہ طور پر نسبتاً چھوٹا تھا، جس کی وجہ سے اس کی بندش سے برطانیہ کے مجموعی بجلی کی پیداوار یا ترسیل کے نظام پر کوئی نمایاں اثر نہیں پڑا۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ مغربی ممالک میں اہم اور حساس بنیادی ڈھانچے پر سائبر حملوں کے خطرات کے حوالے سے طویل عرصے سے انتباہات جاری کیے جاتے رہے ہیں، تاہم اس واقعے کو اس لیے غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کہ اس سے قبل کسی ہیکر کے برطانیہ میں کسی پاور پلانٹ کو مکمل طور پر بند کرنے میں کامیاب ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
ماہرین کے مطابق اس سائبر حملے کا ممکنہ مقصد صرف بجلی کی فراہمی میں خلل ڈالنا نہیں بلکہ اپنی تکنیکی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا بھی ہوسکتا ہے۔ ان کے خیال میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ہیکرز یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ وہ برطانیہ کے حساس نظام تک رسائی حاصل کرنے اور اہم تنصیبات کو عارضی طور پر غیر فعال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یہ واقعہ برطانیہ سمیت مغربی ممالک کے لیے اس حوالے سے ایک اہم سیکیورٹی وارننگ بھی سمجھا جا رہا ہے کہ ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے سائبر گروپس اب صرف معلومات چوری کرنے یا ویب سائٹس کو متاثر کرنے تک محدود نہیں رہے بلکہ صنعتی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں۔
تاہم برطانوی حکام کی جانب سے متاثرہ پلانٹ کی شناخت اور حملے میں ایرانی حکومت یا پاسدارانِ انقلاب کے براہِ راست ملوث ہونے کی باضابطہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔