لاہور (کیو این این ورلڈ) مون سون بارشوں کے نئے سلسلے نے ملک کے مختلف علاقوں میں معمولاتِ زندگی شدید متاثر کر دیے ہیں جبکہ دریاؤں میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے کے باعث متعدد اضلاع میں سیلابی خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور صوبائی اداروں نے کئی شہروں اور دریائی علاقوں کے لیے الرٹ جاری کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق دریائے چناب میں خنکی، قادرآباد اور چنیوٹ کے مقامات پر درمیانے درجے کا سیلاب جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ، چشمہ، تونسہ اور بھکر کے اطراف نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔ دریائے راوی اور دریائے کابل کے بعض مقامات پر بھی پانی کے بہاؤ میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بھکر میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے فلڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر بھکر احسان علی جمالی کے مطابق ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ متعلقہ محکموں کے عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں، انجینئرز کو چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا ہے جبکہ بھاری مشینری اور ضروری سامان حساس مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے۔ سپر بند کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور دریائی علاقوں میں فلڈ کیمپ بھی فعال کر دیے گئے ہیں۔
ادھر کیو این این ورلڈ کے نمائندگان کی رپورٹس کے مطابق پنجاب کے مختلف اضلاع میں ریکارڈ بارشوں نے شہری زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ڈسکہ میں 191 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جس کے باعث جناح چوک سمیت متعدد نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے۔ کمشنر گوجرانوالہ محمد علی نے ہنگامی دورہ کرتے ہوئے نکاسیٔ آب کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایات جاری کیں جبکہ سیالکوٹ سے اضافی ڈی واٹرنگ سیٹس بھی روانہ کیے گئے۔
اوکاڑہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 173 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ ڈپٹی کمشنر محمد اکرام ملک نے شہر بھر میں نکاسیٔ آب کے انتظامات کا جائزہ لیا اور انڈر گراؤنڈ واٹر سٹوریج سسٹم کے ذریعے لاکھوں گیلن بارشی پانی محفوظ کرنے اور منتقل کرنے کے عمل کی نگرانی کی۔ مرکزی شاہراہوں سے پانی نکال لیا گیا ہے جبکہ نشیبی علاقوں میں آپریشن جاری ہے۔
قصور اور اس کے نواحی علاقوں میں بھی شدید بارشوں کے باعث متعدد نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے جبکہ بعض مقامات پر بارشی پانی جمع ہونے سے معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے۔ ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
گڑھ مہاراجہ میں موسلا دھار بارش کے باعث مین بازار اور دیگر علاقے متاثر ہوئے جبکہ ایک مسجد میں بارش کا پانی داخل ہونے سے نمازیوں اور طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شہریوں نے نکاسیٔ آب کے بہتر انتظامات کا مطالبہ کیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے راولپنڈی، اسلام آباد، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، گجرات، شیخوپورہ، فیصل آباد، میانوالی، خوشاب، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، نوشہرہ، چارسدہ، سوات، چترال، کوہستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں شہری سیلاب اور فلیش فلڈنگ کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران مزید بارشوں کی پیش گوئی کے باعث دریاؤں اور برساتی نالوں میں پانی کی سطح مزید بلند ہو سکتی ہے، اس لیے حساس علاقوں کے رہائشی غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور سرکاری ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔