ڈھائی کروڑ بچوں کا تعلیمی بحران: پوشیدہ حقائق

ڈھائی کروڑ بچوں کی تعلیم سے دوری، پوشیدہ حقائق
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
آج صبح ایک خبر پڑھی جس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، جبکہ پنجاب میں ان کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اس خبر میں بچوں کے سکول نہ جانے کی روایتی وجوہات جیسے غربت، مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی کمی کو بھی شامل کرکے اس صورتحال کی وضاحت کی گئی ہے۔

پاکستان میں ڈھائی کروڑ سے زائد بچوں کا سکولوں سے باہر ہونا محض ایک تعلیمی عدد نہیں بلکہ قومی مستقبل پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے اور نسبتاً ترقی یافتہ صوبے پنجاب میں نو سے دس ملین بچوں کا تعلیم سے محروم ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ایک گہرا، منظم اور کثیرالجہتی بحران ہے۔ عموماً غربت، مہنگائی، اساتذہ کی کمی اور ناقص بنیادی ڈھانچے کو ہی اس تباہی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، تاہم معروضی تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ تعلیمی زوال کے پسِ پردہ کئی ایسے پوشیدہ نفسیاتی، سماجی اور جدید تکنیکی عوامل بھی کارفرما ہیں جنہیں اب تک پالیسی سازوں اور میڈیا نے خاطر خواہ اہمیت نہیں دی۔

معاشی دباؤ اس بحران کا سب سے بڑا ظاہری رخ ہے، جہاں مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ جب گھر میں دو وقت کی روٹی مشکل ہو تو تعلیم ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہے اور والدین بچوں کو سکول بھیجنے کے بجائے روایتی محنت مزدوری پر بھیجنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ شہری علاقوں میں بھی متوسط طبقہ نجی سکولوں کی بھاری فیسوں سے تنگ آ کر بچوں کو گھر بٹھا لیتا ہے، کیونکہ سرکاری سکولوں میں معیار اس حد تک گر چکا ہے کہ وہ اب قابلِ اعتماد نہیں رہے۔ دور دراز دیہاتوں میں سکولوں کی عدم دستیابی اور پینے کے پانی، بجلی اور بیت الخلا جیسی بنیادی سہولیات کا فقدان اس فاصلے کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

تاہم جدید دور کا سب سے بڑا اور اچھوتا چیلنج غیر دستاویزی ڈیجیٹل معیشت کی وہ پوشیدہ کشش ہے جو روایتی چائلڈ لیبر سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ آج کا بچہ ہوٹلوں یا ورکشاپس کی کڑی دھوپ میں مزدوری کرنے کے بجائے سستے سمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کی چھاؤں میں آن لائن گیمنگ ٹورنامنٹس، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی مانیٹائزیشن کے ذریعے چھوٹی عمر میں ہی پیسے کمانے کے چکر میں پڑ چکا ہے۔ والدین اکثر اس دھوکے میں رہتے ہیں کہ ان کا بچہ گھر میں محفوظ بیٹھا ہے، لیکن وہ دراصل سکول اور کتابوں کی دنیا سے ہمیشہ کے لیے کٹ چکا ہوتا ہے۔ فوری اور آسان پیسے کی یہ چمک بچوں کو باقاعدہ تعلیم سے مستقل دور کر رہی ہے۔

اس کے ساتھ ہی ہمارے تعلیمی نظام کے اندرونی ماحول نے بچوں میں ایک شدید اور غیر محسوس نفسیاتی احساسِ کمتری پیدا کر دیا ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کے پھیلے ہوئے نیٹ ورک اور ان کی ظاہری چمک دمک کے مقابلے میں سرکاری سکولوں کے بچے خود کو نسبتاً کمتر محسوس کرتے ہیں۔ جب پسماندہ خاندانوں کے بچے امیر طبقے کے بچوں کے لباس، مہنگے سمارٹ فونز، جیب خرچ اور طرزِ زندگی کا موازنہ اپنے حالات سے کرتے ہیں تو وہ رفتہ رفتہ تعلیم سے دلبرداشتہ ہونے لگتے ہیں۔ یہ نفسیاتی دباؤ اور طبقاتی تفریق بچوں کو سکول کے ماحول سے دور کرتی ہے، یہاں تک کہ بعض صورتوں میں وہ باقاعدہ تعلیمی سلسلہ ہی ترک کر دیتے ہیں۔

اسی تناظر میں پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پیف) کے تحت چلنے والے سکول بھی ایک اہم بحث کا حصہ ہیں، جہاں کئی مقامات پر اساتذہ کی تعلیمی کوالیفیکیشن اور پیشہ ورانہ اہلیت کی مؤثر مانیٹرنگ کا واضح فقدان پایا جاتا ہے۔ مزید یہ کہ بعض اداروں میں کم تربیت یافتہ اور غیر پیشہ ور اساتذہ کی تعیناتی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ محدود تنخواہوں اور ناکافی تربیت کے باعث کئی مقامات پر ایسے افراد تدریس کے شعبے سے منسلک ہو جاتے ہیں جنہیں نہ جدید تدریسی مہارتیں حاصل ہوتی ہیں اور نہ ہی بچوں کی نفسیات سے آگاہی۔ نتیجتاً تدریس کا عمل رٹے اور گائیڈ بکس تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے، جس سے طلبہ میں سیکھنے کی حقیقی صلاحیت پیدا نہیں ہو پاتی۔

مزید برآں بعض تعلیمی اداروں میں طلبہ کے ساتھ غیر مناسب رویے اور جسمانی سزا جیسے عوامل بھی دیکھنے میں آتے ہیں، جو نہ صرف تعلیمی ماحول کو متاثر کرتے ہیں بلکہ بچوں کے ذہنی دباؤ اور سکول چھوڑنے کے رجحان میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ جدید تعلیمی اصول واضح طور پر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ “مار نہیں، پیار اور رہنمائی” ہی مؤثر تدریس کا بنیادی اصول ہے، تاہم اس کی خلاف ورزی تعلیمی نظام پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔

ایک اور اہم اور پوشیدہ وجہ ہمارا وہ فرسودہ تعلیمی نصاب ہے جس کا مقامی اور خاندانی مہارتوں کے ساتھ شدید تصادم پایا جاتا ہے۔ دیہی اور نیم شہری علاقوں کا روایتی ڈھانچہ زراعت، دستکاری اور خاندانی کاروبار پر قائم ہے، جبکہ موجودہ تعلیمی نظام ان خاندانی ہنروں کو یکسر نظرانداز کر کے محض رٹہ سسٹم پر مبنی ایک ایسی نظریاتی تعلیم دیتا ہے جس کی تکمیل کے بعد بھی نوکری کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔ والدین اب یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ سکول کا نصاب ان کے بچے کو اپنے خاندانی پیشے اور زمین سے بھی دور کر رہا ہے اور عملی زندگی کے قابل بھی نہیں چھوڑ رہا، اس لیے وہ بچوں کو سکول بھیجنے کے بجائے ہنر سکھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

سکولوں کے اندر اساتذہ کی کمی اور غیر حاضری کا رونا تو ہمیشہ رویا جاتا ہے، لیکن کلاس رومز کے اندر اساتذہ کی ڈیجیٹل مصروفیات اور عدم توجہی پر کبھی بات نہیں کی گئی۔ آج کل اساتذہ دورانِ تدریس سمارٹ فونز، سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر مسلسل مصروف نظر آتے ہیں، جس کی وجہ سے تدریسی عمل انتہائی خشک، بے جان اور بورنگ ہو چکا ہے۔ جب طلبہ کلاس روم کے اندر خود کو مسلسل نظرانداز ہوتا دیکھتے ہیں، تو ان کے سیکھنے کا شوق ختم ہو جاتا ہے۔ یہ تدریسی لاتعلقی بچوں کو سکول سے اس طرح بیزار کرتی ہے کہ وہ امتحانات میں ناکامی کے خوف سے مستقل طور پر تعلیمی سلسلہ منقطع کر لیتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیاں بھی اب ایک خاموش تعلیمی قاتل بن کر ابھری ہیں، جس کا میڈیا صرف بڑے سانحات کی حد تک احاطہ کرتا ہے۔ شدید سیلاب، زہریلی اسموگ یا شدید گرمی کی لہروں کے باعث غریب خاندانوں کو سال میں کئی بار غیر اعلانیہ عارضی ہجرت کرنی پڑتی ہے۔ بڑے تعلیمی تعطل کے دوران جب یہ بچے مہینوں سکولوں سے دور رہتے ہیں، تو ان کا تعلیمی تسلسل اس بری طرح ٹوٹتا ہے کہ حالات معمول پر آنے کے بعد بھی وہ دوبارہ کبھی کلاس روم کا رخ نہیں کر پاتے۔ یہ غیر اعلانیہ تعلیمی انقطاع اور جغرافیائی تقسیم لاکھوں بچوں کو سکولوں کی فہرست سے مستقل خارج کر رہی ہے۔

ان سب کے علاوہ بچوں میں موبائل فون کی لت اور نیند کا شدید فقدان ایک بالکل نیا سماجی بحران بن چکا ہے۔ رات دیر تک سکرینز کے سامنے وقت گزارنے کی وجہ سے بچوں کی زندگی بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔ صبح کے وقت وہ سکول جانے کے لیے بیدار نہیں ہو پاتے، جس کے نتیجے میں روزانہ کی سستی، چڑچڑاپن اور سکول سے مسلسل غیر حاضری کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے کہ بالآخر والدین تنگ آ کر خود ہی ان کا نام سکول سے خارج کروا دیتے ہیں۔ یہ طرزِ زندگی جدید نسل کو تعلیم سے دور کرنے میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔

حکومتی عدم ترجیح اور تعلیمی بجٹ کا جی ڈی پی کے دو فیصد سے بھی کم ہونا اس بحران کو مزید ہوا دیتا ہے، جہاں بجٹ کا نوے فیصد حصہ صرف تنخواہوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ حکومتی سطح پر بنائی جانے والی پالیسیاں اور خصوصی مہمات صرف کاغذی کارروائی اور عارضی اعداد و شمار تک محدود رہتی ہیں۔ محکمہ تعلیم میں سیاسی مداخلت، ناقص ڈیٹا انٹری، "گھوسٹ سکولوں” کی موجودگی اور مقامی سطح پر احتساب کا نہ ہونا اس بحران کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ غریب خاندانوں کے لیے جب تک متبادل معاشی تحفظ اور وظائف کا شفاف نظام قائم نہیں ہوگا، تب تک روایتی اقدامات بے اثر رہیں گے۔

اس تعلیمی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے ہمیں اب روایتی طریقوں سے ہٹ کر ایک جامع اور ہمہ جہت حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ جہاں سکولوں کے بنیادی ڈھانچے کو یقینی بنانا ناگزیر ہے، وہیں اساتذہ کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور کلاس رومز میں فون کے استعمال پر سخت پابندی عائد کرنا ہوگی۔ غریب والدین کے لیے مشروط نقد وظیفہ کے پروگرام شروع کیے جائیں تاکہ معاشی مجبوری کا خاتمہ ہو سکے۔ تعلیمی نصاب کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے اس میں عملی ہنر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو شامل کرنا ہوگا تاکہ والدین کو یہ یقین ہو کہ سکول کی تعلیم ان کے بچوں کے مستقبل کو معاشی طور پر محفوظ بنا سکتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ڈھائی کروڑ بچوں کا سکولوں سے باہر ہونا محض کوئی تعلیمی مسئلہ یا عام اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ یہ ہماری قومی سلامتی، معیشت اور بقا کا سب سے بڑا اور ہولناک بحران ہے۔ اگر آج بھی ہم نے روایتی غفلت پسندی کو چھوڑ کر ان پوشیدہ، نفسیاتی اور جدید محرکات کا ادراک نہ کیا اور ہنگامی بنیادوں پر ایک مربوط و قابلِ عمل تین سے پانچ سالہ ایکشن پلان تشکیل نہ دیا، تو یہ کروڑوں ناخواندہ بچے آنے والے وقت میں ایک ایسے بارود کے ڈھیر میں تبدیل ہو جائیں گے جسے سنبھالنا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ وقت تیزی سے ہاتھ سے نکل رہا ہے؛ اب وقت کاغذی دعووں کا نہیں بلکہ حکومت، اساتذہ اور معاشرے کو ایک صفحے پر آ کر اس تعلیمی اندھیرے کے خلاف فیصلہ کن اور فوری جنگ لڑنا ہوگی، ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے