رادھن سٹی میں افسوسناک حادثہ، رکشے کی ٹکر سے معصوم مہک دم توڑ گئی

گھوٹکی/بہاولنگر (کیو این این ورلڈ): سندھ اور پنجاب میں پیش آنے والے دو مختلف افسوسناک واقعات میں ایک 4 سالہ بچہ مبینہ طور پر غلط انجیکشن لگنے سے جاں بحق ہوگیا، جبکہ بہاولنگر کے علاقے ڈونگہ بونگہ میں پیدائش کے فوراً بعد مبینہ طور پر نومولود بچی کو گندے پانی کے جوہڑ میں پھینک دیا گیا، جسے پولیس اور اہل علاقہ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے زندہ نکال لیا۔

کندھ کوٹ میں 4 سالہ قربان ولد مہران بنگوار کو طبیعت خراب ہونے پر ڈاکٹر اسداللہ نوناری کے پاس علاج کے لیے لے جایا گیا تھا۔ ورثاء کے مطابق دورانِ علاج بچے کو انجیکشن لگایا گیا، جس کے بعد اس کی حالت اچانک بگڑ گئی اور وہ جانبر نہ ہوسکا۔ ورثاء نے الزام عائد کیا کہ بچے کی ہلاکت مبینہ طبی غفلت کے باعث ہوئی۔

بچے کی ہلاکت پر ورثاء اور بنگوار برادری میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور واقعے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ احتجاج کے دوران اسپتال میں مبینہ توڑ پھوڑ کی بھی اطلاعات ہیں۔ ورثاء نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور غفلت ثابت ہونے پر ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

دوسری جانب بہاولنگر کے علاقے ڈونگہ بونگہ میں مبینہ طور پر ایک خاتون نے پیدائش کے فوراً بعد نومولود بچی کو تھیلے میں ڈال کر گندے پانی کے جوہڑ میں پھینک دیا۔ پولیس کے مطابق اہل علاقہ نے مشتبہ سرگرمی دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی، جس پر پولیس موقع پر پہنچی اور اہل علاقہ کے تعاون سے بچی کو جوہڑ سے زندہ نکال لیا۔

پولیس کے مطابق نومولود بچی کو فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں ڈاکٹرز اس کی حالت کا جائزہ لے رہے ہیں۔ پولیس نے واقعے میں مبینہ طور پر ملوث خاتون کو گرفتار کرکے قانونی کارروائی شروع کردی ہے، جبکہ نومولود کو جوہڑ میں پھینکنے کی وجوہات اور واقعے کے دیگر پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے