حملے روکو ورنہ وفاداری ختم؛ افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کو پیغام، پاکستان کا اقدامات کو ناکافی قرار

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) پاکستان کے سیکیورٹی خدشات کو دور کرنے کی کوششوں کے تحت افغان طالبان حکومت نے غیر رسمی طور پر یہ اہم پیغام پہنچایا ہے کہ طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوندزادہ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو سخت وارننگ دی ہے کہ وہ پاکستان کے اندر حملے روک دے، ورنہ وہ طالبان کی وفاداری سے محروم ہو سکتی ہے۔ ایک معتبر پاکستانی ذریعے کے مطابق یہ پیغام طالبان حکومت کی اس وسیع تر کوشش کا حصہ تھا جس کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے کام کرنے والی ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند تنظیموں کو لگام دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، تاہم پاکستان نے اس اقدام کو ناکافی اور زمین پر کسی بھی معنی خیز تبدیلی سے عاری قرار دیا ہے۔

اس معاملے سے واقف حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کے اندر جاری جائزے کے مطابق طالبان کی ان حالیہ یقین دہانیوں کا مقصد صرف بین الاقوامی اور علاقائی دباؤ کو کم کرنا لگتا ہے۔ ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان کا سیکیورٹی جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ افغانستان سے کام کرنے والے دہشت گرد گروپوں کے بارے میں طالبان حکومت کے رویے میں کوئی ٹھوس تبدیلی نہیں آئی ہے، اور طالبان حکام کے بار بار کے دعووں کے باوجود دہشت گرد نیٹ ورکس میں افغان شہریوں کی بھرتی کا سلسلہ اب بھی بدستور جاری ہے۔ اہلکار کے مطابق طالبان قیادت کا خیال ہے کہ ایسے اقدامات سے وہ وقت حاصل کر سکتے ہیں لیکن اسلام آباد قابلِ تصدیق کارروائی کی عدم موجودگی کے باعث اب بھی غیر مطمئن ہے۔

شدید بداعتمادی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید بگاڑ کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ پاکستان اور طالبان حکومت کے سینئر حکام نے اپریل کے پہلے ہفتے میں چین کے شہر ارومچی میں ایک ہفتہ طویل بات چیت کی تھی، جسے بیجنگ نے تعمیری اور مثبت قرار دیتے ہوئے جامع افہام و تفہیم کی امید ظاہر کی تھی۔ ان روابط کے باوجود پاکستان کو مسلسل دہشت گردانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات کے باوجود اگر بہتری کا کوئی حقیقی امکان نظر آئے تو اسلام آباد مذاکرات کے ایک اور دور میں شرکت کے لیے تیار ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ چین کے بعد جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے میں بھی پاکستان اور چین نے افغانستان سے کام کرنے والے دہشت گرد گروپوں کے لاحق خطرے کو تسلیم کیا تھا اور کابل پر زور دیا تھا کہ وہ ٹی ٹی پی، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ اور دیگر دہشت گرد نیٹ ورکس جیسی تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کئی مہینوں سے موجود ہے اور وقتاً فوقتاً سرحد کے ساتھ فوجی تصادم بھی سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ کابل کی جانب سے وقتاً فوقتاً سفارتی روابط اور یقین دہانیوں کے باوجود پاکستانی حکام کا ماننا ہے کہ وعدوں اور عملی اقدامات کے درمیان فرق بداعتمادی کو ہوا دے رہا ہے اور دوطرفہ تعلقات میں بامعنی بہتری کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے