ایک طرف مذاکرات، دوسری طرف امریکی ڈرون گرانے اور سخت کارروائی کے دعوے

تہران/واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ امن معاہدے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان پسِ پردہ پیغامات کے تبادلے کے ساتھ ساتھ میدانِ جنگ میں عسکری کشیدگی اور بیانات کی جنگ بھی بدستور جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے مسودے میں متعدد سخت ترامیم شامل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے، جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی وعدے پر تب تک یقین نہیں کرے گا جب تک اس کے قابلِ تصدیق اور عملی نتائج سامنے نہیں آ جاتے۔

امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے دوران معاہدے کے مسودے کا جائزہ لیا اور اس میں نظرثانی کی ہدایت جاری کی۔ امریکی قیادت خاص طور پر ایران کے افزودہ یورینیم کے مستقبل، اس کے ذخائر، ممکنہ منتقلی کے طریقہ کار اور آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق شقوں کی زبان کو مزید سخت اور واضح بنانا چاہتی ہے۔ امریکہ نے یہ مجوزہ ترامیم ایران کو بھجوا دی ہیں اور توقع ہے کہ تہران تین دن کے اندر اپنا جواب دے گا۔ اگر دونوں فریقین متنازع نکات پر اتفاق کر لیتے ہیں تو معاہدہ ایک ہفتے یا اس سے بھی کم وقت میں طے پا سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے نہ صرف جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے بلکہ کسی بھی ذریعے سے ایسے ہتھیار حاصل نہ کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کر دی ہے، جسے انہوں نے جاری مذاکرات میں بڑی پیش رفت قرار دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ تنازع کے بجائے معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ اس کے بعد آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ نے ایران کی عسکری قیادت اور دیگر اہم اہداف کو نشانہ بنایا لیکن ایرانی فوج کو مکمل طور پر تباہ کرنے سے گریز کیا، کیونکہ ماضی میں عراق کے تجربات سے یہ سبق ملا ہے کہ کسی ملک کے تمام ریاستی ڈھانچے کو ختم کر دینا طویل المدتی عدم استحکام کا باعث بنتا ہے۔

ایران کی جانب سے ان مذاکرات اور امریکی دعووں پر انتہائی محتاط اور سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سرکاری میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ گفت و شنید اور پیغامات کا سلسلہ بدستور جاری ہے، تاہم انہوں نے عوام اور میڈیا پر زور دیا کہ وہ اس حوالے سے قیاس آرائیوں سے پرہیز کریں۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ جب تک کوئی واضح اور حتمی نتیجہ برآمد نہیں ہو جاتا، تب تک ان قیاس آرائیوں کو سنجیدہ نہیں لینا چاہیے۔

اسی دوران ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے نو منتخب اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی عزائم پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو مخالف فریق کے وعدوں پر کوئی بھروسہ نہیں ہے، اس لیے کسی بھی معاہدے میں پیش رفت کا واحد معیار ’حقیقی اور قابلِ تصدیق نتائج‘ ہوں گے۔ قالیباف نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جب تک ایرانی عوام کے حقوق کی ضمانت نہیں ملتی، تہران اپنی کوئی ذمہ داری پوری نہیں کرے گا۔

سفارتی کوششوں کے برعکس سرحدوں پر عسکری تنازع بھی عروج پر ہے۔ ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ایئرڈیفنس یونٹ نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر ایک اور امریکی فوجی ڈرون "ایم کیو-ون” (MQ-1) کو جدید میزائل سسٹم کے ذریعے مار گرایا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی ڈرون ایران کی بحری سرحد کے اوپر فضائی حدود میں داخل ہوا۔ پاسداران انقلاب نے خبردار کیا کہ ملک کی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی پر فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 26 مئی کو بھی خلیج فارس میں امریکی ڈرون ایم کیو-9 تباہ کیا گیا تھا، جبکہ ایرانی فوج آر کیو-4 ڈرون اور ایف-35 لڑاکا طیارے کو بھی فائرنگ کر کے پسپا ہونے پر مجبور کر چکی ہے۔

اس عسکری کشیدگی کے تناظر میں ایرانی مسلح افواج کے نائب کمانڈر برائے رابطہ امور ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی سرزمین کے خلاف کسی بھی نئی جارحیت کا جواب ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدید اور طاقتور ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عسکری قوت اور تیاری دشمنوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ ملک کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

دوسری طرف، امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف اس جنگ کے بدترین اقتصادی اثرات خود امریکی عوام پر پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ موڈی اینالٹکس کے ڈیٹا کے مطابق 28 فروری سے جاری اس تنازع کے باعث پیٹرول کی قیمتوں اور فضائی کرایوں میں بدترین اضافہ ہوا ہے، جس نے امریکی صارفین پر اب تک 60 ارب ڈالر کا اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔ ایندھن کے اخراجات بڑھنے سے اوسط امریکی گھرانے کو 447 ڈالر کا اضافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ماہرینِ اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ جنگ ختم نہ ہوئی تو ایک سال مکمل ہونے پر اوسط امریکی گھرانے کے اخراجات میں دو ہزار ڈالر تک کا بدترین اضافہ ہو سکتا ہے، جو پہلے سے کمزور امریکی معیشت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے