نئی دہلی (کیو این این ورلڈ) بھارت میں مہنگائی، بے روزگاری اور اشیائے ضروریہ پر جی ایس ٹی کے نفاذ کے خلاف بھارتی قومی کانگریس کے احتجاجی مارچ کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کانگریس رہنما راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی سمیت متعدد اراکینِ پارلیمنٹ کو حراست میں لے لیا۔
کانگریس رہنماؤں اور کارکنوں نے سیاہ لباس زیب تن کر کے وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے وزیراعظم ہاؤس اور ارد گرد کے علاقوں میں سخت سیکورٹی انتظامات کرتے ہوئے دفعہ 144 نافذ کر رکھی تھی۔
پیش قدمی روکے جانے پر پریانکا گاندھی سڑک پر دھرنا دے کر بیٹھ گئیں، جس پر پولیس نے انہیں اور راہول گاندھی کو زبردستی گاڑیوں میں منتقل کر کے حراست میں لے لیا۔ اس موقع پر کانگریس کارکنوں اور پولیس کے درمیان شدید دھکم پیل اور نعرے بازی بھی ہوئی۔
حراست میں لیے جانے سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ بھارت میں جمہوریت کا قتل کیا جا رہا ہے اور عوام کے حقیقی مسائل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو خاموش کرنے کے لیے سرکاری اداروں کا بے جا استعمال کیا جا رہا ہے مگر وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
دہلی پولیس نے حراست میں لیے گئے کانگریس رہنماؤں اور اراکینِ پارلیمنٹ کو مختلف پولیس اسٹیشنوں میں منتقل کیا اور کئی گھنٹوں بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ کانگریس قیادت نے پولیس کے اس رویے کو آمریت قرار دیتے ہوئے عوامی مسائل پر احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔