لنڈی کوتل: بچوں کے لیے خصوصی کراٹے کلاسز کا آغاز، منشیات سے بچاؤ پر زور

لنڈی کوتل: (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار)ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں گزشتہ تین دہائیوں سے نوجوانوں کی تربیت اور مثبت سرگرمیوں کے فروغ میں مصروف انٹرنیشنل کیوکشن کان کراٹے پاکستان اکیڈمی نے بچوں کے لیے خصوصی کلاسز کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نئی نسل کو منشیات اور دیگر منفی سرگرمیوں سے دور رکھتے ہوئے انہیں ایک صحت مند، بااعتماد اور باصلاحیت شہری بنانا ہے۔

اکیڈمی کے برانچ چیف حیات نذیر شینواری اور پاکستان برانچ چیف و سینئر کوچ نور اسلم شینواری نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “نشہ سے انکار، زندگی سے پیار” صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ان کے ادارے کا عملی مشن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں نوجوان نسل مختلف سماجی مسائل کا شکار ہے، جن میں منشیات سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہیں، ایسے حالات میں کھیلوں اور خاص طور پر مارشل آرٹس کی سرگرمیاں نوجوانوں کو مثبت سمت فراہم کرتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اکیڈمی میں شروع کی گئی خصوصی کلاسز کے ذریعے بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ وہ نہ صرف صحت مند رہیں بلکہ معاشرے میں مثبت کردار بھی ادا کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اکیڈمی گزشتہ 30 برسوں سے علاقے میں نوجوانوں کی جسمانی، ذہنی اور اخلاقی تربیت کے لیے مسلسل خدمات انجام دے رہی ہے۔

اکیڈمی انتظامیہ کے مطابق لنڈی کوتل میں قائم یہ ادارہ صرف مارشل آرٹس کی تربیت تک محدود نہیں بلکہ نوجوانوں میں نظم و ضبط، برداشت، خود اعتمادی اور مثبت طرزِ زندگی کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محدود وسائل اور سہولیات کے باوجود ادارے نے اپنی محنت اور لگن سے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ قومی سطح پر بھی نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔

حیات نذیر شینواری نے مزید کہا کہ اکیڈمی کے تربیت یافتہ کھلاڑی نہ صرف قومی سطح پر بہترین کارکردگی دکھا چکے ہیں بلکہ بین الاقوامی مقابلوں میں بھی پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ملک کا نام روشن کر چکے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ قبائلی اضلاع میں کھیلوں کی سہولیات اب بھی ناکافی ہیں، جس کے باعث نوجوانوں کی صلاحیتیں پوری طرح اجاگر نہیں ہو پاتیں۔

انہوں نے حکومت، اسپورٹس بورڈ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ قبائلی علاقوں میں کھیلوں کے فروغ کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں تاکہ نوجوانوں کو بہتر مواقع میسر آ سکیں اور وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کر سکیں۔

اکیڈمی میں تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراٹے نے ان کی زندگی میں مثبت تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ ان کے مطابق کھیلوں کی سرگرمیوں نے انہیں نہ صرف جسمانی طور پر مضبوط بنایا بلکہ نظم و ضبط، وقت کی پابندی اور خود اعتمادی بھی سکھائی ہے۔

مقامی سماجی و سیاسی شخصیات نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ لنڈی کوتل جیسے حساس اور سرحدی علاقے میں اس نوعیت کی مثبت سرگرمیاں نہایت اہمیت کی حامل ہیں، جو نوجوانوں کو منفی راستوں سے ہٹا کر ایک روشن مستقبل کی جانب گامزن کرتی ہیں۔ انہوں نے اکیڈمی کی تین دہائیوں پر محیط خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسے اقدامات آئندہ بھی جاری رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے