وراثت ہتھیانے کی کوشش؟ زندہ بزرگ کا جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ، قبر اور جنازہ سامنے آگیا

سیالکوٹ (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف مدثر رتو) سیالکوٹ کی تحصیل سمبڑیال میں ایک حیران کن اور انوکھا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں مبینہ طور پر جائیداد اور وراثت ہتھیانے کی غرض سے ایک زندہ شخص کو سرکاری ریکارڈ میں مردہ قرار دے دیا گیا۔ معاملے کے منظرِ عام پر آنے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق تحصیل سمبڑیال کے رہائشی نبی احمد نے اسسٹنٹ کمشنر سمبڑیال کے دفتر پہنچ کر اپنے زندہ ہونے کی تصدیق کی اور بیان دیا کہ وہ حیات ہیں، تاہم بعض افراد نے مبینہ طور پر انہیں مردہ ظاہر کرتے ہوئے ان کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرا لیا۔ نبی احمد کے مطابق نہ صرف ان کا جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ تیار کیا گیا بلکہ ان کے نام سے نمازِ جنازہ بھی ادا کی گئی، قبر بنائی گئی اور انہیں سرکاری ریکارڈ میں فوت شدہ ظاہر کر دیا گیا۔

متاثرہ بزرگ نے الزام عائد کیا کہ یہ تمام کارروائی بعض رشتہ داروں کی جانب سے وراثت اور جائیداد کی تقسیم کے لیے کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جب انہیں اس معاملے کا علم ہوا تو وہ خود اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر پہنچے تاکہ حقیقت واضح کی جا سکے۔

واقعے کی سنگینی کے پیشِ نظر اسسٹنٹ کمشنر سمبڑیال نے فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ پٹواری اور دیگر حکام کو تحقیقات کا حکم دے دیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے نبی احمد کا ویڈیو بیان بھی جاری کیا گیا جس میں وہ واضح طور پر کہتے نظر آتے ہیں: "میں زندہ ہوں۔”

انتظامیہ نے معاملے کی مکمل چھان بین کا آغاز کر دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مبینہ جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ کس طرح جاری ہوا، اس میں کون کون ملوث ہے اور سرکاری ریکارڈ میں تبدیلی کس کے ذریعے کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کی روشنی میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

یہ واقعہ علاقے میں موضوعِ بحث بن گیا ہے اور شہری حلقے سرکاری ریکارڈ کے نظام اور وراثتی معاملات میں ممکنہ بے ضابطگیوں پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے