دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال سنگین، رحیم یار خان سب سے زیادہ متاثر، متعدد دیہات زیر آب

اسلام آباد/لاہور (کیو این این ورلڈ) ملک بھر میں جاری مون سون بارشوں کے باعث دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے 2 اگست تک دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں مزید اضافے، مقامی سیلاب اور شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات اور فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور نے بھی خبردار کیا ہے کہ 4 اگست تک جاری رہنے والے بارشی سلسلے کے باعث جنوبی پنجاب، جنوب مشرقی سندھ اور مشرقی بلوچستان میں شدید بارشیں متوقع ہیں، جس سے دریاؤں، ندی نالوں اور کچے کے علاقوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

تازہ ترین رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں گڈو بیراج کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب برقرار ہے جہاں پانی کی آمد میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ کالاباغ، چشمہ اور سکھر کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ تونسہ بیراج پر بھی پانی کا بہاؤ معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم حکام کے مطابق صورتحال تاحال کنٹرول میں ہے۔

جنوبی پنجاب میں سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال ضلع رحیم یار خان میں سامنے آئی ہے جہاں دریائے سندھ میں درمیانے درجے کا سیلاب آ چکا ہے۔ لیاقت پور کے قریب متعدد دیہات سیلابی ریلے کی زد میں آ کر زیر آب آ گئے ہیں جبکہ کچے کے علاقے میں 30 سے زائد دیہات کا زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے۔ متاثرہ خاندان اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں۔ دوسری جانب چاچڑاں شریف کے مقام پر دریائے سندھ میں شدید کٹاؤ جاری ہے جس سے حفاظتی بندوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

فیروزوالہ کے مقام پر نالہ بھیڑ میں شگاف پڑنے کے باعث متعدد آبادیاں اور دیہات تاحال پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ پٹھان کالونی اور رانا ٹاؤن سے ملحقہ علاقوں کو خالی کرا لیا گیا ہے جبکہ خواتین، بچوں اور بزرگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

دیگر اضلاع میں بھی صورتحال تشویشناک قرار دی جا رہی ہے۔ لیہ کے کچے والے علاقے حساس قرار دیے گئے ہیں اور متعلقہ ادارے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ تونسہ میں پانی کا بہاؤ بلند ہونے کے باعث کچے کے علاقوں میں کٹاؤ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے جبکہ کوٹ ادو کے دریائے سندھ سے ملحقہ علاقوں میں انتظامیہ نے الرٹ جاری کر رکھا ہے اور ممکنہ انخلاء کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ مظفرگڑھ کے کچے اور نالوں سے ملحقہ علاقوں کو بھی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

این ڈی ایم اے نے خاص طور پر ڈیرہ غازی خان اور راجنپور کے پہاڑی نالوں میں شدید طغیانی اور فلیش فلڈ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ادارے کے مطابق مسلسل بارشوں کے باعث ہل ٹورنٹس میں اچانک اور شدید سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جس سے نشیبی علاقے متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

پی ڈی ایم اے پنجاب نے جنوبی پنجاب کے تمام حساس اضلاع میں ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ ادارے نے دریا کنارے، کچے کے علاقوں اور ندی نالوں کے قریب رہائش پذیر افراد کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق یکم سے 4 اگست تک جنوبی پنجاب، جنوب مشرقی سندھ اور مشرقی بلوچستان میں بھاری سے بہت بھاری بارشوں کا امکان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بارشوں کے اس نئے سلسلے سے دریائے سندھ اور اس کے معاون نالوں میں پانی کی سطح مزید بلند ہو سکتی ہے جبکہ شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے اور اربن فلڈنگ کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ لیہ، مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، راجنپور اور رحیم یار خان سمیت متعدد اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور طوفانی موسم کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، سیلابی پانی، ندی نالوں اور دریا کے قریب جانے سے احتراز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریسکیو 1122 اور متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔

تازہ ترین صورتحال کے مطابق رحیم یار خان اس وقت جنوبی پنجاب کا سب سے زیادہ متاثرہ ضلع ہے جہاں سیلابی پانی متعدد دیہات میں داخل ہو چکا ہے اور زمینی رابطے منقطع ہونے کے باعث متاثرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ آئندہ چند روز میں مزید بارشوں کے باعث صورتحال مزید بگڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے