پشاور (کیو این این ورلڈ/کیو این این ورلڈ) سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (SCCI) کی ڈرائی پورٹ و ریلوے اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین اور ممبر ایگزیکٹیو کمیٹی ضیاء الحق سرحدی (ستارہ امتیاز) نے پاکستان ریلوے پشاور کے نئے تعینات ہونے والے ڈویژنل سپرٹنڈنٹ (ڈی ایس) عمران حیات خان سے ان کے آفس میں ایک اہم ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے دوران انہوں نے عمران حیات خان کو پشاور میں تعیناتی پر دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ چونکہ ان کا تعلق خود خیبر پختونخوا سے ہے، اس لیے وہ صوبے کی جغرافیائی و کاروباری مشکلات اور بزنس کمیونٹی کے دیرینہ مسائل سے نہ صرف بخوبی واقف ہوں گے بلکہ انہیں حل کرنے میں بھی اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
ملاقات میں اضاخیل ڈرائی پورٹ کا معاملہ اٹھاتے ہوئے ضیاء الحق سرحدی نے کہا کہ 6 سال قبل سابق وزیر اعظم عمران خان نے بڑے زور و شور سے اس ڈرائی پورٹ کا افتتاح کیا تھا، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ 6 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ ڈرائی پورٹ آج تک صحیح معنوں میں فعال نہیں ہو سکا۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ ڈرائی پورٹ 28 ایکڑ کے وسیع رقبے پر تقریباً 60 کروڑ روپے کی خطیر لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا اور حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ نئے ڈرائی پورٹ میں ون ونڈو آپریشن سمیت جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی، جبکہ پشاور سے کراچی کے لیے خصوصی ایکسپورٹ کارگو ٹرین چلائی جائے گی تاکہ خیبر پختونخوا کے تاجروں کو درآمدات و برآمدات میں آسانی ہو، مگر تاحال ان دعوؤں پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔
پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI) کے سینئر نائب صدر اور فرنٹیئر کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن (FCAA) کے صوبائی صدر ضیاء الحق سرحدی نے انکشاف کیا کہ پشاور کینٹ ڈرائی پورٹ سے گزشتہ 20 سالوں سے ایکسپورٹ کارگو ٹرین مکمل بند پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے خیبر پختونخوا کو جیمز، ماربل، فرنیچر، تمباکو، ہینڈی کرافٹ، قالین، شہد اور معدنیات جیسی نعمتوں سے نوازا ہے اور ماچس کی سب سے بڑی انڈسٹری بھی اسی صوبے میں ہے، لیکن کارگو ٹرین نہ ہونے کی وجہ سے یہ تمام برآمدی اشیاء اضاخیل ڈرائی پورٹ کے بجائے پرائیویٹ ٹرکوں کے ذریعے کراچی بھیجی جاتی ہیں جہاں کسٹم کلیئرنس کے بعد انہیں بیرون ملک بھیجا جاتا ہے۔ اس غیر منصفانہ نظام کی وجہ سے صوبے کے 250 سے زائد کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس بیروزگار ہو چکے ہیں اور پاکستان ریلوے کو بھی ماہانہ کروڑوں روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے انڈسٹریل اسٹیٹ کے کارخانوں کے خام مال اور ری کنڈیشن گاڑیوں کی ترسیل کے لیے پشاور کینٹ سے دوبارہ گڈز ٹرینیں چلانے کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرین نہ ہونے سے یہ سامان پرائیویٹ اور بانڈڈ کیریئر ٹرکوں میں آرہا ہے، اگر ریلوے یہ سروس شروع کرے تو اسے کروڑوں روپے کی آمدن ہوگی۔ انہوں نے گلہ کیا کہ ان مسائل کے حل کے لیے چیئرمین و سیکرٹری ریلویز اسلام آباد اور جی ایم ریلویز لاہور سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے بارہا رابطہ کیا گیا مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ ملاقات کے اختتام پر ڈی ایس ریلوے عمران حیات خان نے ضیاء الحق سرحدی کو ‘ستارہ امتیاز’ ملنے پر مبارکباد دی اور بزنس کمیونٹی کے تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے وعدہ کیا کہ وہ اضاخیل ڈرائی پورٹ کے ثمرات تاجر برادری تک پہنچانے کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کریں گے، جس پر ضیاء الحق سرحدی نے ان کا شکریہ ادا کیا۔