رینالہ خورد (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار) بجلی اور گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگیاں اجیرن بنا دیں جبکہ مہنگے پٹرول نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی، جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے اقتدار سنبھالتے ہی عوام کو ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے بلند بانگ دعوے کیے گئے تھے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں اور عوامی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے گیس کی لوڈشیڈنگ جاری ہے جبکہ فراہم کی جانے والی گیس کا پریشر بھی انتہائی کم ہے، جس کے باعث گھریلو امور بالخصوص کھانا پکانے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
دوسری جانب بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ بھی معمول بن چکی ہے، جس سے نہ صرف شہری اذیت کا شکار ہیں بلکہ کاروباری سرگرمیاں بھی تنزلی کا شکار ہو رہی ہیں۔
عوامی حلقوں کا مزید کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے مہنگائی کا طوفان برپا کر دیا ہے، جس کے باعث روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں اور عام آدمی کی زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔