پانڈا بانڈز،ایک نیا دور اور نیا راستہ

پانڈا بانڈز : ایک نیا راستہ
تحریر ۔ سـید نـذیـر شـاہ
دنیا بھر کی معاشی منڈیوں میں جب بھی کسی ملک کو ترقیاتی منصوبوں، بجٹ خسارے یا قرضوں کی ادائیگی کے لیے سرمایہ درکار ہوتا ہے تو وہ عالمی سرمایہ کاروں، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF)، عالمی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں سے رجوع کرتا ہے، جہاں عموماً یہ قرض ڈالر یا یورو میں حاصل کیا جاتا ہے۔ تاہم، گزشتہ چند برسوں میں عالمی مالیاتی نظام میں "پانڈا بانڈ” کی اصطلاح ایک طاقتور متبادل کے طور پر ابھری ہے۔ پانڈا بانڈ دراصل ایک ایسا مالیاتی ذریعہ ہے جس کے تحت کوئی بھی ملک چین کی مقامی مارکیٹ سے چینی کرنسی "یوآن” میں قرض حاصل کرتا ہے اور ایک مقررہ مدت کے بعد اسے منافع سمیت واپس کرتا ہے۔

جس طرح پانڈا چین کی ثقافتی شناخت ہے، اسی طرح یہ بانڈز اب چین کی بڑھتی ہوئی معاشی قوت اور عالمی مالیاتی نظام پر اس کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی علامت بن چکے ہیں۔ یہ نظام اس حقیقت کی نمائندگی کرتا ہے کہ عالمی معیشت اب آہستہ آہستہ ایک "کثیر کرنسی نظام” کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں صرف امریکی ڈالر ہی واحد غالب کرنسی نہیں رہا۔ پاکستان کے لیے پانڈا بانڈز کا اجراء محض ایک مالیاتی اصطلاح نہیں بلکہ ایک ایسی نئی معاشی کھڑکی ہے جس کے ذریعے وہ ڈالر پر اپنا ضرورت سے زیادہ انحصار کم کر سکتا ہے۔ ایشیا کی سب سے بڑی معیشت کے ساتھ براہ راست مالیاتی تعلقات مضبوط ہونے سے پاکستان کو نہ صرف متبادل سرمایہ حاصل کرنے کا موقع ملے گا بلکہ اپنی مالیاتی پالیسی میں بھی زیادہ لچک اور استحکام پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

عالمی سطح پر پانڈا بانڈز کی اہمیت اس لیے بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے کیونکہ چین کی بانڈ مارکیٹ اب دنیا کی دوسری بڑی مارکیٹ بن چکی ہے، جہاں مصر، ہنگری اور فلپائن جیسے ممالک ان بانڈز کا کامیاب تجربہ کر کے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ یہ ڈالر کے مقابلے میں نسبتاً سستا اور مستحکم راستہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ سب سے پہلے کوئی ملک، جیسے پاکستان، چین میں بانڈ جاری کرنے کی اجازت حاصل کرتا ہے۔ اس کے لیے اسے چینی مالیاتی ریگولیٹرز اور سرمایہ کاروں کا اعتماد حاصل کرنا پڑتا ہے۔ جب منظوری مل جاتی ہے تو وہ مخصوص مالیت کے بانڈ جاری کرتا ہے۔

اسی تسلسل میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان بھی اب ابتدائی مرحلے میں تقریباً 250 ملین ڈالر مالیت کے چینی کرنسی یوآن میں پانڈا بانڈز جاری کرنے جا رہا ہے، جو دراصل ایک ارب ڈالر کے ایک وسیع پروگرام کا پہلا حصہ ہے۔ اس اہم منصوبے کو ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) اور ایشیائی انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (AIIB) کی بھرپور معاونت حاصل ہے، جس سے نہ صرف ان بانڈز کی ساکھ بہتر ہوگی بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھے گا، کیونکہ ان اداروں کی شمولیت ایک طرح سے سرمایہ کاری کے تحفظ کی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔

پاکستان کا پانڈا بانڈز کی جانب یہ پیش قدمی ایک گہری معاشی حکمت عملی کا حصہ ہے، کیونکہ ملک طویل عرصے سے ڈالر کی قلت اور روپے کی گرتی ہوئی قدر کی وجہ سے معاشی دباؤ کا شکار رہا ہے۔ معاشی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ جب کوئی ملک صرف ایک یا دو عالمی کرنسیوں پر تکیہ کرتا ہے تو اس کی معیشت عالمی اتار چڑھاؤ کے سامنے بہت کمزور ہو جاتی ہے، لہٰذا وفاقی کابینہ کی جانب سے ان بانڈز کی منظوری اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پاکستان اب اپنے مالیاتی ذرائع کو متنوع بنا کر مختلف کرنسیوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ اس عمل میں پاکستان کو ایک بڑا فائدہ یہ بھی حاصل ہے کہ سی پیک جیسے منصوبوں کی بدولت چین کے ساتھ پہلے ہی ایک مضبوط تجارتی اور مالیاتی ڈھانچہ موجود ہے، جس کی وجہ سے یوآن میں لین دین اور سرمایہ کاری کا حصول پاکستان کے لیے معاشی طور پر زیادہ موزوں اور آسان ثابت ہو سکتا ہے۔

تاہم اس نئے اور بظاہر پرکشش راستے پر کامیابی سے آگے بڑھنے کے لیے پاکستان کو کئی سخت چیلنجز کا سامنا بھی ہوگا۔ ان میں سب سے اہم ملک کی "کریڈٹ ریٹنگ” یعنی قرض واپس کرنے کی ساکھ کو بہتر بنانا ہے۔ یہ معاشی تعلق اسی صورت میں حقیقی معنوں میں سودمند ثابت ہو سکتا ہے جب حکومت صرف نئے قرض حاصل کرنے تک محدود نہ رہے بلکہ ایسی مستقل اصلاحات نافذ کرے جو معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں مدد دیں۔ انتظامیہ اور بیوروکریسی کو بھی اپنی روایتی سرخ فیتے والی سوچ سے نکل کر جدید معاشی تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا، کیونکہ چینی سرمایہ کار انتہائی محتاط ہوتے ہیں اور وہ انہی ممالک میں سرمایہ کاری کرتے ہیں جہاں انہیں معاشی استحکام، پالیسیوں میں تسلسل اور سیاسی اعتماد نظر آئے۔

ماہرین کے مطابق پانڈا بانڈز سے حاصل ہونے والی رقم کو اگر صرف عارضی مالی سہارا سمجھ کر استعمال کیا گیا تو اس کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے۔ اس سرمایہ کو صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافے، پیداواری شعبوں اور معاشی سرگرمیوں کو وسعت دینے والے منصوبوں پر خرچ کرنا ضروری ہوگا، ورنہ یہ قرضوں کا بوجھ مزید بڑھا سکتا ہے۔ اسی لیے ان بانڈز کی اصل کامیابی صرف سرمایہ حاصل کرنے میں نہیں بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کے بارے میں اعتماد کو مضبوط اور برقرار رکھنے میں پوشیدہ ہے۔

سادہ الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ پانڈا بانڈز پاکستان کے لیے ایک جدید، باوقار اور اہم معاشی راستہ ہیں، لیکن اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ملک کو اندرونی معاشی اصلاحات، عوام دوست مالیاتی نظم و ضبط اور دور اندیش حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ اس سے مراد ایسی معاشی پالیسی ہے جس میں حکومتی مالی نظم و ضبط بھی برقرار رہے اور ساتھ ہی عام آدمی کے مفادات، روزگار اور قوتِ خرید کا بھی تحفظ کیا جائے۔ اگر حکومت خسارہ کم کرنے کے لیے صرف بجلی، گیس اور پیٹرول بار بار مہنگا کرنے پر انحصار کرے تو یہ سخت یا مشکل فیصلے تو کہلا سکتے ہیں، مگر انہیں عوام دوست پالیسی نہیں کہا جا سکتا۔ اس کے برعکس اگر اشرافیہ کی مراعات کم کی جائیں، ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے، کرپشن پر قابو پایا جائے اور صنعت و برآمدات کو فروغ دیا جائے تو یہی اقدامات حقیقی معنوں میں عوام دوست معاشی اصلاحات شمار ہوں گے۔ اگر یہ راستہ اختیار نہ کیا گیا تو پھر بیرونی قرضوں کا نیا سلسلہ، بشمول پانڈا بانڈز، عوام پر مزید مالی دباؤ ڈال سکتا ہے اور قرضوں کا بوجھ کم ہونے کے بجائے بڑھ بھی سکتا ہے، جس کا اثر بالآخر عام شہری کی زندگی، مہنگائی اور قوتِ خرید پر پڑے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے