اوکاڑہ کی ڈائری
تحریر: بیورو چیف ملک ظفر
23 فور ایل بھوہڑانوالہ ، مسلسل محرومیوں کا شکار ایک دیہات
دیہاتوں کی ترقی ہی پاکستان کی حقیقی ترقی ہے۔ پاکستان کی معیشت اور خوشحالی میں دیہی علاقوں کا ہمیشہ بنیادی کردار رہا ہے، مگر افسوس کہ آج بھی ضلعی انتظامیہ اور پالیسی ساز اداروں کی ترجیحات میں بیشتر دیہات نظر انداز دکھائی دیتے ہیں۔ بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں سے مسلسل محرومی دیہی آبادی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک محسوس کراتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دیہی علاقوں کو بھی وہی اہمیت دی جائے جو شہری علاقوں کو حاصل ہے۔ افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ بیوروکریسی کی بڑی تعداد خود دیہی پس منظر رکھتی ہے، اس کے باوجود دیہات آج بھی بنیادی مسائل کا شکار ہیں۔
آج ہم آپ کو ضلع اوکاڑہ کے ایک ایسے پسماندہ گاؤں سے متعارف کروا رہے ہیں، جو کئی دہائیوں سے ترقیاتی منصوبوں کا منتظر ہے۔
حلقہ پی پی 190 اور این اے 136 میں واقع 23 فور ایل بھوہڑانوالہ اوکاڑہ شہر سے تقریباً 30 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ بھوہڑ قوم اوکاڑہ کی معروف برادریوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ گاؤں محنت کش کسانوں اور باہمت لوگوں کی بستی ہے، مگر مسلسل حکومتی عدم توجہی اور بنیادی مسائل نے یہاں کے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
ضلع اوکاڑہ کو پنجاب کا زرعی دل کہا جاتا ہے، لیکن اس زرعی ضلع کے متعدد دیہات آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، اور 23 فور ایل بھوہڑانوالہ ان میں سرفہرست ہے۔
گاؤں کی اکثریتی آبادی کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی ہے، مگر زراعت اس وقت شدید بحران سے دوچار ہے۔ ایک طرف زیر زمین پانی کڑوا ہے، جس کے باعث ٹیوب ویل کا پانی زیادہ تر فصلوں کے لیے موزوں نہیں، جبکہ دوسری جانب نہری پانی کی شدید قلت نے کسانوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ مقامی کسانوں کے مطابق راستے میں پانی کی مبینہ چوری اور نہری نظام کی ناقص نگرانی کے باعث آخری ٹیل پر واقع اس گاؤں کو اس کا جائز حصہ نہیں ملتا۔
اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ محکمہ انہار اوکاڑہ کی غفلت یا مبینہ ملی بھگت کے باعث کئی دہائیوں سے کسان مسلسل مالی نقصان اٹھا رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جائے اور آخری ٹیل تک نہری پانی پہنچایا جائے تاکہ زراعت کو سہارا مل سکے۔
گاؤں میں سیوریج کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں۔ معمولی بارش بھی گلیوں، سڑکوں اور رہائشی علاقوں کو تالاب کا منظر پیش کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ نکاسی آب کے مؤثر انتظامات نہ ہونے کے باعث پانی کئی کئی دن تک کھڑا رہتا ہے، جس سے آمدورفت متاثر ہوتی ہے اور مختلف بیماریوں کے پھیلنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔
سڑکوں کی حالت بھی انتہائی ابتر ہے۔ جگہ جگہ گہرے گڑھے نہ صرف سفر کو دشوار بنا دیتے ہیں بلکہ کسانوں کو اپنی زرعی پیداوار منڈیوں تک پہنچانے میں اضافی اخراجات بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
تعلیمی ادارے موجود ہونے کے باوجود ان کی کارکردگی عوامی توقعات کے مطابق نہیں۔ معیاری تعلیم، جدید سہولیات اور ضروری وسائل کی کمی نوجوان نسل کے روشن مستقبل میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اسی طرح بنیادی مرکز صحت بھی عملے، ادویات اور سہولیات کی کمی کے باعث مقامی آبادی کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔
بے روزگاری نے بھی اس گاؤں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان اور کئی خاندان بہتر مستقبل کی تلاش میں دوسرے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جس سے گاؤں کی معاشی اور سماجی زندگی بھی متاثر ہوئی ہے۔
23 فور ایل بھوہڑانوالہ کے کسانوں کا ایک اہم مطالبہ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے بھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ زیر زمین پانی کڑوا ہے اور نہری پانی کی مسلسل قلت کے باعث زراعت شدید متاثر ہو رہی ہے، اس لیے حکومت اس علاقے کے کسانوں کے لیے خصوصی سولر سسٹم پیکج متعارف کرائے۔ کسانوں کا مؤقف ہے کہ اگر انہیں سولر توانائی کی سہولت فراہم کی جائے تو ان کے زرعی اخراجات کم ہوں گے، وہ اپنی زمینوں کو بہتر طریقے سے آباد کر سکیں گے، اپنے بچوں کی معیاری تعلیم و تربیت کا بہتر بندوبست کر سکیں گے اور ایک باوقار زندگی گزار سکیں گے۔
یہ مطالبہ صرف ایک گاؤں کا نہیں بلکہ ان تمام آخری ٹیلوں پر آباد کسانوں کی آواز ہے جو برسوں سے پانی کی قلت، مہنگی بجلی، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پنجاب، ضلعی انتظامیہ، محکمہ انہار اور منتخب عوامی نمائندے 23 فور ایل بھوہڑانوالہ کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔ نہری پانی کی منصفانہ تقسیم، پانی کی چوری کی روک تھام، جدید سیوریج سسٹم، مؤثر نکاسی آب، ٹوٹی ہوئی سڑکوں کی تعمیر، صحت و تعلیم کی بہتری اور کسانوں کے لیے خصوصی سولر پیکج جیسے اقدامات نہ صرف اس گاؤں بلکہ پورے علاقے کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔
ترقی کا اصل معیار صرف شہروں کی چمکتی سڑکیں اور بلند و بالا عمارتیں نہیں، بلکہ وہ دیہات ہیں جہاں پاکستان کی معیشت کا اصل ستون، یعنی کسان آباد ہیں۔ اگر 23 فور ایل بھوہڑانوالہ جیسے دیہات کو ان کا جائز حق مل جائے تو یہی بستیاں پنجاب کی حقیقی ترقی کی روشن مثال بن سکتی ہیں۔
امید کا دامن تو آج بھی تھاما ہوا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ گزشتہ 78 برسوں سے محرومیوں کا شکار یہ دیہات آخر کب تک صرف وعدوں پر گزارا کرتے رہیں گے؟