کرم: مناتو متاثرین معاوضے سے تاحال محروم، تصدیق مکمل، احتجاج کا اعلان

کوہاٹ (کیو این این ورلڈ) ضلع کرم کے سنٹرل کرم علاقے مناتو اور گردونواح کے متاثرین نے تمام سرکاری تصدیقی مراحل مکمل ہونے کے باوجود معاوضوں کی عدم ادائیگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری مالی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ بائیومیٹرک تصدیق اور دیگر تمام دفتری کارروائیاں مکمل ہونے کے باوجود کئی ماہ گزر جانے کے بعد بھی انہیں وعدہ کیا گیا معاوضہ نہیں ملا، جس کے باعث وہ شدید معاشی اور سماجی مشکلات کا شکار ہیں۔

اس سلسلے میں ضلع کرم کے علاقے مناتو میں علماء کرام، عمائدین اور مقامی مشران کا مشترکہ جرگہ منعقد ہوا، جس میں علاقے کی موجودہ صورتحال اور متاثرین کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ جرگے سے خطاب کرتے ہوئے ملک کیبت خان اور دیگر عمائدین نے کہا کہ مناتو اور اس کے گردونواح کے دیہات کے سینکڑوں عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد (ٹی ڈی پیز) تمام سرکاری تصدیقی مراحل مکمل ہونے کے باوجود مالی امداد سے محروم ہیں، جس سے متاثرہ خاندانوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ متعلقہ اداروں نے تمام اہل متاثرین کا ڈیٹا مرتب کر کے بائیومیٹرک تصدیق بھی مکمل کر لی تھی، تاہم اس کے باوجود عملی طور پر کسی بھی متاثرہ خاندان کو معاوضے کی ادائیگی نہیں کی گئی۔ ان کے بقول حکومتی خاموشی نے متاثرین کی امیدوں کو مایوسی میں بدل دیا ہے۔

جرگے کے شرکاء نے بتایا کہ متاثرہ خاندان لندوکی، لیل گڈا، خومرے، کامران، ناری روغ، ووٹ، ورستہ میلہ، پیر کوٹ، ظریف خان کلے اور گواکے سمیت متعدد دیہات سے تعلق رکھتے ہیں، جو سیکیورٹی صورتحال کے باعث اپنے گھروں اور آبائی زمینوں کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔ کئی ماہ گزرنے کے باوجود یہ خاندان آج بھی اپنے گھروں سے دور زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں وہ مالی امداد بھی فراہم نہیں کی گئی جس کا حکومت نے وعدہ کیا تھا۔

عمائدین نے کہا کہ بائیومیٹرک تصدیق کا مقصد شفافیت کو یقینی بنانا اور امدادی رقوم کی بروقت تقسیم تھا، مگر تصدیق مکمل ہونے اور امداد کی فراہمی کے درمیان طویل تاخیر نے متعدد سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تمام قانونی اور انتظامی تقاضے پورے ہو چکے ہیں تو پھر معاوضوں کی ادائیگی میں رکاوٹ کی وجوہات عوام کے سامنے لائی جائیں۔

جرگے کے شرکاء کے مطابق معاوضوں میں تاخیر اب صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک سنگین انسانی، سماجی اور معاشی بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ نقل مکانی کے باعث متاثرہ خاندان اپنے گھروں، زمینوں اور روزگار کے ذرائع سے محروم ہو چکے ہیں، جبکہ دیہاڑی دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جس کی آمدنی کے تمام ذرائع بند ہو چکے ہیں۔ متعدد خاندان اپنے رشتہ داروں اور مقامی برادری کی امداد پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ مالی مشکلات کے ساتھ ساتھ مسلسل غیر یقینی صورتحال نے انہیں شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک بے گھر شہری عبداللہ نے بتایا کہ موجودہ حالات میں دو وقت کی روٹی کا انتظام بھی مشکل ہو چکا ہے، جبکہ بہت سے والدین اپنے بچوں کو خوراک، تعلیم اور علاج جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔

جرگے کے شرکاء نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ تصدیق شدہ تمام متاثرین کو فوری طور پر معاوضے کی ادائیگی کی جائے اور تاخیر کی وجوہات سے بھی عوام کو آگاہ کیا جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو سکے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ چند روز میں ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو مناتو اور گردونواح کے متاثرین بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ متاثرین نے واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی یا امن و امان کی صورتحال کی ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی، جنہوں نے تمام تصدیقی عمل مکمل ہونے کے باوجود معاوضوں کی ادائیگی میں غیر ضروری تاخیر کی۔ جرگے کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری انتظامی مداخلت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو ریلیف فراہم کرے تاکہ مزید انسانی مشکلات اور بے چینی سے بچا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے