چاول میں افلاٹوکسین اور کیڑے مار ادویات کی باقیات پر قابو پانے کی تربیت

اوکاڑہ (بیورو چیف ملک ظفر) ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) نے محکمہ زراعت حکومت پنجاب کے پیسٹ وارننگ اور کوالٹی کنٹرول آف پیسٹی سائیڈز ونگ کے اشتراک سے چاول میں افلاٹوکسین اور میکسیمم ریزیڈیو لیولز (MRLs) کے مؤثر انتظام سے متعلق آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا۔ سیمینار ٹی ایم اے ہال اوکاڑہ میں منعقد ہوا، جس میں کسانوں، چاول کے کاشتکاروں، برآمد کنندگان، رائس ملرز اور محکمہ زراعت کے ایکسٹینشن افسران سمیت تقریباً 140 افراد نے شرکت کی۔

یہ سیمینار پنجاب کے اہم چاول پیدا کرنے والے اضلاع میں منعقد کیے جانے والے آگاہی پروگراموں کے سلسلے کی ایک کڑی تھا، جس کا بنیادی مقصد چاول کی ویلیو چین میں معیار، غذائی تحفظ اور بین الاقوامی منڈیوں کی ضروریات کے مطابق بہتر طریقہ کار کو فروغ دینا ہے۔

سیمینار کے دوران شرکاء کو چاول کی پیداوار، برداشت کے بعد کی دیکھ بھال، ذخیرہ کرنے اور ہینڈلنگ کے مختلف مراحل میں احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا گیا۔ ماہرین نے اس امر پر زور دیا کہ بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی چاول کی مسابقت اور برآمدات میں اضافے کے لیے عالمی معیار اور فوڈ سیفٹی کی ضروریات پر عمل درآمد انتہائی ضروری ہے۔

محکمہ زراعت حکومت پنجاب، رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بہاولنگر، محکمہ تحفظ نباتات (ڈی پی پی) اور ٹی ڈی اے پی کے کنسلٹنٹ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چاول میں افلاٹوکسین کی آلودگی پر قابو پانے اور کیڑے مار ادویات کی باقیات کو بین الاقوامی طور پر مقررہ میکسیمم ریزیڈیو لیولز کے مطابق رکھنے کے حوالے سے تکنیکی رہنمائی فراہم کی۔

ماہرین نے بتایا کہ چاول کے معیار اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فصل کی کٹائی کے بعد مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کرنا نہایت اہم ہے۔ اس سلسلے میں چاول کو مناسب طریقے سے خشک کرنے، نمی سے محفوظ رکھنے، محفوظ اور معیاری ماحول میں ذخیرہ کرنے اور درست طریقے سے ہینڈلنگ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ افلاٹوکسین کی آلودگی کے خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

سیمینار میں شریک کسانوں، کاشتکاروں اور چاول کی صنعت سے وابستہ افراد کو بین الاقوامی چاول کی منڈیوں میں مطلوبہ معیار اور فوڈ سیفٹی کے تقاضوں سے متعلق عملی رہنمائی بھی فراہم کی گئی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ جدید اور محفوظ زرعی طریقوں کے فروغ سے نہ صرف چاول کے معیار میں بہتری لائی جا سکتی ہے بلکہ پاکستانی چاول کی عالمی منڈیوں میں قبولیت اور برآمدی امکانات میں بھی اضافہ ممکن ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے