خیبر پختونخوا کا قبائلی اضلاع، ملاکنڈ میں سیلز ٹیکس استثنیٰ کا فیصلہ

خیبر (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار نورحلیم آفریدی) خیبر پختونخوا حکومت نے سابق فاٹا اور پاٹا کی حدود میں قائم کاروباری و صنعتی اداروں کو سیلز ٹیکس سے استثنیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی (کے پی آر اے) کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق خدمات فراہم کرنے والے مقامی افراد اور کاروباری اداروں کو 30 جون 2027ء جبکہ صنعتی اداروں کو 30 جون 2028ء تک ٹیکس میں رعایت دی گئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق خدمات فراہم کرنے والے مقامی افراد اور کاروباری اداروں میں ہوٹلز، گیسٹ ہاؤسز، ریسٹورنٹس، پراپرٹی رینٹل، رئیل اسٹیٹ، غیر سرکاری تعمیراتی شعبہ، نجی ہسپتال، کلینکس، لیبارٹریز، مقامی ٹرانسپورٹ، بیوٹی پارلرز، سیلونز، ورکشاپس، کار واش، ڈرائی کلیننگ، الیکٹریکل و الیکٹرانک مرمت، پلمبنگ، ویلڈنگ، فوٹوگرافی، ویڈیوگرافی، ایونٹ مینجمنٹ، کنسلٹنسی اور ٹریول ایجنسیاں شامل ہیں۔ ان اداروں کو 30 جون 2027ء تک سیلز ٹیکس آن سروسز سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ ٹیکس استثنیٰ سے فائدہ اٹھانے کے لیے سروس فراہم کرنے والے کا متعلقہ علاقے کا حقیقی رہائشی ہونا لازمی ہوگا، جبکہ اس کے شناختی کارڈ پر بھی اسی علاقے کا پتہ درج ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ کاروبار کا سابق فاٹا یا پاٹا کی حدود میں قائم ہونا بھی لازمی ہوگا اور فراہم کی جانے والی سروس کا آغاز اور اختتام بھی انہی علاقوں میں ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق ٹیلی کمیونیکیشن سروسز، پی ایس ڈی پی اور اے ڈی پی کے تحت سرکاری ترقیاتی منصوبے، جبکہ بیرونی علاقوں کے برانڈز یا فرنچائزز اس ٹیکس استثنیٰ میں شامل نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب صنعتی اداروں کو فراہم کی جانے والی خدمات پر ودہولڈنگ سیلز ٹیکس سے 30 جون 2028ء تک استثنیٰ دیا گیا ہے۔ اس رعایت سے گھی و خوردنی تیل، آٹا ملز، ماربل و گرینائٹ، فارماسیوٹیکل، فرنیچر، ڈیری مصنوعات، اسٹیل ری رولنگ، ایلومینیم اور دیگر مینوفیکچرنگ یونٹس مستفید ہوں گے۔

صوبائی حکومت کے اس فیصلے سے قبائلی اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن میں خدمات اور صنعتی شعبے سے وابستہ مقامی کاروباری اداروں کو ٹیکس کے حوالے سے ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے