اسلام آباد/تہران/واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے، تاہم دونوں جانب سے متضاد بیانات اور سفارتی سرگرمیوں کے باوجود مذاکرات اور جنگ بندی کے حوالے سے صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔
ایرانی صدارتی دفتر کے ترجمان مہدی طباطبائی نے ملکی قیادت میں اختلافات کی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی قیادت میں مکمل اتحاد موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران مذاکرات سے گریزاں نہیں، لیکن بات چیت صرف انصاف، وقار اور دانشمندی کی بنیاد پر ہی ممکن ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ مخالفین سیاسی پروپیگنڈا اور جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں، جبکہ اصل مسئلہ امریکا کی وعدہ خلافی اور دباؤ کی پالیسی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے بھی مذاکرات میں تعطل کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ دھمکیاں، بحری ناکہ بندی اور وعدوں کی خلاف ورزی مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران مکالمے کا حامی ہے، مگر عملی اقدامات اور بیانات میں تضاد ختم ہونا ضروری ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مذاکرات میں ایران نے سنجیدگی دکھائی، مگر امریکی رویہ غیر مستقل رہا۔ انہوں نے امریکی بحری ناکہ بندی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جنگ بندی کے باوجود ایران کے جہازوں پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات یا جنگ بندی کے لیے کسی مخصوص ٹائم فریم کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ تین سے پانچ دن کی مہلت کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو کوئی حتمی تاریخ طے کی گئی ہے اور نہ ہی جنگ کے خاتمے کی کوئی ڈیڈ لائن ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران پر بحری ناکہ بندی دباؤ بڑھا رہی ہے اور یہی پالیسی جاری رکھی جائے گی۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ جنگ بندی میں توسیع کی کوئی مقررہ مدت نہیں، اور امریکا ایرانی قیادت کے متفقہ ردعمل کا انتظار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق فوجی کارروائیوں میں وقتی وقفہ ضرور ہے، مگر اقتصادی دباؤ اور ناکہ بندی برقرار رہے گی۔
ادھر امریکی سیاست میں بھی اس پالیسی پر تنقید سامنے آئی ہے۔ کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے ایران کے ساتھ کشیدگی کو امریکا میں مہنگائی، خصوصاً ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا سبب قرار دیتے ہوئے ٹرمپ سے جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
خطے میں کشیدگی کے تناظر میں برطانیہ میں آبنائے ہرمز کی صورتحال پر 30 سے زائد ممالک کے فوجی منصوبہ سازوں کی کانفرنس بھی منعقد ہو رہی ہے، جس میں ممکنہ سکیورٹی اقدامات اور جنگ بندی کے بعد کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔
دوسری طرف ایران نے آبنائے ہرمز میں دو بحری جہازوں کو تحویل میں لینے کی ویڈیو جاری کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ اقدام سکیورٹی اصولوں کی خلاف ورزی پر کیا گیا، جبکہ ایرانی حکام نے اسے امریکی کارروائیوں کا جواب قرار دیا ہے۔ ایرانی پارلیمان کے رکن ابراہیم رضائی نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے "آنکھ کے بدلے آنکھ” کی پالیسی کا عندیہ بھی دیا ہے۔
علاوہ ازیں امریکا نے اپنے شہریوں کو لبنان فوری چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جہاں اسرائیلی حملوں میں شدت آ رہی ہے اور خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ماضی میں بھی ایران پر حملے کا منصوبہ مختلف امریکی صدور کے سامنے پیش کر چکے ہیں، تاہم اسے مسترد کر دیا گیا تھا کیونکہ سفارتی حل کے تمام راستے ختم نہیں ہوئے تھے۔
دوسری جانب اسرائیل نے امریکی صدر ٹرمپ کو "اسرائیل پرائز” سے نوازنے کا اعلان کیا ہے، جسے دونوں ممالک کے قریبی تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں ممکنہ مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی خبریں گردش میں ہیں، اور بعض رپورٹس میں آئندہ 36 سے 72 گھنٹوں میں بات چیت شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، تاہم پاکستان کی وزارت خارجہ نے تاحال کسی حتمی شیڈول کی تصدیق نہیں کی۔
مجموعی طور پر صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم ہونے کے بجائے پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے، جہاں ایک طرف مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے گئے ہیں تو دوسری جانب عملی اقدامات، دباؤ اور بیانات میں تضاد بدستور ڈیڈلاک کا باعث بن رہا ہے۔