لنڈیکوتل ڈی ایچ کیو ہسپتال میں اصلاحات، طبی سہولیات اور آمدن میں نمایاں اضافہ

لنڈیکوتل (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار) ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لنڈیکوتل کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا ہے کہ ہسپتال میں مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی، ایمرجنسی سروسز کی بہتری، بجلی و پانی کے مسائل کے حل اور انتظامی اصلاحات کے لیے عملی اقدامات اٹھائے گئے ہیں، جبکہ بہتر کارکردگی کی بدولت ہسپتال کی آمدن میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایمرجنسی اور لیبر روم میں سٹاف کی ڈیوٹی یقینی بنادی گئی ہے اور سٹاف کی غیر حاضری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ڈی ایچ کیو ہسپتال لنڈیکوتل میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے ایم ایس ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ جب انہوں نے ذمہ داریاں سنبھالیں تو ہسپتال شدید مشکلات سے دوچار تھا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی کئی اچھے اقدامات کیے گئے جن کی وہ قدر کرتے ہیں، تاہم سب سے بڑا مسئلہ بجلی کا تھا اور ان کے تعینات ہونے کے بعد ہسپتال کی بجلی مکمل طور پر منقطع کردی گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ بجلی کے بقایاجات کی مد میں 16 کروڑ روپے جمع کیے گئے لیکن یہ رقم بلوں میں ظاہر نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق گزشتہ دس برسوں کے دوران مجموعی طور پر 23 کروڑ روپے جمع ہوئے، تاہم اس کے باوجود ریکارڈ میں شفافیت موجود نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹیسکو حکام اس مسئلے کے حل میں تعاون نہیں کررہے، حالانکہ عدالت تین مرتبہ ہسپتال کے حق میں فیصلے دے چکی ہے۔

ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ ہسپتال میں میٹرائزیشن کے لیے درخواستیں جمع کرادی گئی ہیں اور ہسپتال کے اندر جو افراد میٹر نصب نہیں کریں گے ان کی بجلی منقطع کرکے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال کا میٹر گریڈ اسٹیشن میں نصب ہونا ناقابل قبول ہے اور کسی کو بھی ہسپتال کی لائن سے مفت بجلی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ایم ایس کے مطابق پانی کے دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے سولر سسٹم نصب کیا گیا ہے، نئی موٹر خریدی گئی ہے جبکہ پائپ لائن کا بھی انتظام کیا گیا ہے تاکہ مریضوں اور عملے کو پانی کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں آئی سی یو یونٹ فعال کردیا گیا ہے جبکہ ایمرجنسی یونٹ میں ہر ڈاکٹر کی باقاعدہ ڈیوٹی مقرر کی گئی ہے۔ ادویات کی خریداری کے لیے ایک کروڑ روپے کا فنڈ موجود ہے اور میڈیکل اسٹور کی نگرانی کے لیے ڈاکٹر کی سربراہی میں سات رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے تاکہ ادویات کی فراہمی اور استعمال کو شفاف بنایا جاسکے۔

ڈاکٹر جمیل احمد نے کہا کہ ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس بی و سی سے متاثرہ مریضوں کے لیے علاج و تشخیص کی سہولیات بھی فعال کردی گئی ہیں، جبکہ ماضی میں ایسے مریضوں کو پشاور ریفر کیا جاتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ہسپتال کو بڑی مقدار میں طبی سامان فراہم کیا گیا ہے جس کے باعث اسٹور میں جگہ کم پڑ گئی ہے۔ ہسپتال کو تین نئی الٹراساؤنڈ مشینیں، بڑی آکسیجن مشینیں فراہم کی جاچکی ہیں جبکہ بلڈ بینک کو بھی فعال کردیا گیا ہے، جہاں 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ اسی طرح نئی ڈیجیٹل ایکسرے مشین نصب کردی گئی ہے جبکہ اینستھیزیا مشینیں بھی جلد ہسپتال پہنچ جائیں گی۔

ایم ایس نے مزید بتایا کہ ہسپتال کے لیے 172 نئی آسامیوں کی منظوری حاصل کرلی گئی ہے، جبکہ 70 مختلف طبی آئٹمز موصول ہوچکے ہیں اور مزید 60 آئٹمز جلد فراہم کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی ٹیم سے سی ٹی اسکین مشین اور میڈیکل کالج کے قیام کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے تاکہ قبائلی ضلع خیبر کے عوام کو مزید بہتر طبی سہولیات میسر آسکیں۔

ڈاکٹر جمیل احمد کے مطابق بدقسمتی سے ماضی میں ہسپتال کا ساڑھے سات کروڑ روپے کا فنڈ واپس چلا گیا تھا، تاہم موجودہ انتظامیہ نے وسائل کے بہتر استعمال اور شفاف پالیسی کے ذریعے ہسپتال کی کارکردگی میں بہتری لائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتظامی اصلاحات اور بہتر کارکردگی کے باعث ہسپتال کی ماہانہ آمدن میں 6 لاکھ روپے اضافہ ہوا ہے جبکہ اسے بڑھا کر تقریباً 50 لاکھ روپے تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے