میڈ ان پاکستان‘: انڈین مدرسے کے پنکھے پر لگا لیبل جو دو افراد کی حراست باعث بن گیا

کُشی نگر (کیو این این ورلڈ) بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع کُشی نگر میں ایک مدرسے کے اندر ’میڈ ان پاکستان‘ لیبل والا پنکھا ملنے پر پولیس نے دو افراد کو حراست میں لے لیا، تاہم تحقیقات کے بعد انہیں بے گناہ قرار دے کر رہا کر دیا گیا۔ یہ معاملہ اس وقت سنگین صورتحال اختیار کر گیا جب سوشل میڈیا پر پاکستانی پنکھے کی تصاویر وائرل ہوئیں اور مقامی سطح پر اسے قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جانے لگا۔

تفصیلات کے مطابق وشنو پورہ تھانے کے علاقے میں واقع مدرسہ قادریہ حکیم العلوم میں موجود ایک پنکھا خراب ہونے پر مرمت کے لیے مکینک کو دیا گیا، جس نے اس پر ’میڈ ان پاکستان‘ کا لیبل دیکھ کر تصاویر وائرل کر دیں۔ سوشل میڈیا پر مہم چلنے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مدرسے کے مینیجر محمد یونس اور پنکھا عطیہ کرنے والے مقامی رہائشی شمس الدین کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا۔

تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ شمس الدین کا بیٹا واجد انصاری گزشتہ 10 سال سے سعودی عرب میں مزدوری کر رہا ہے، جس نے 2020 میں یہ پنکھا وہاں سے تقریباً 80 ریال میں خریدا اور کارگو کے ذریعے اپنے گھر بھیجا تھا۔ شمس الدین نے بعد ازاں 2023 میں یہ پنکھا مدرسے کو عطیہ کر دیا تھا۔ پولیس کو خریداری کی تمام دستاویزات اور کوریئر کی رسیدیں فراہم کر دی گئیں، جس سے ثابت ہوا کہ پنکھا براہِ راست پاکستان سے نہیں بلکہ تیسرے ملک سے قانونی طریقے سے منگوایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے 2 مئی 2025 کو پاکستان سے ہر قسم کی اشیاء کی براہِ راست درآمد پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے، جس کی وجہ سے سرحدی علاقوں میں ایسی مصنوعات کی موجودگی کو حساس سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، دستاویزات کی تصدیق اور تفصیلی تفتیش کے بعد پولیس نے تمام شکوک و شبہات مسترد کرتے ہوئے زیرِ حراست افراد کو رہا کر دیا اور معاملے کو ختم کر دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے