لاہور (کیو این این ورلڈ) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت بجلی کے شعبے میں ایسی انقلابی اصلاحات لا رہی ہے جس کے بعد بجلی اتنی سستی ہو جائے گی کہ شہری اسے دن کے وقت بیٹریوں میں محفوظ کر کے رات کو استعمال کر سکیں گے۔ لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں پاور کانفرنس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے توانائی سیکٹر میں کی جانے والی تبدیلیوں کو ملکی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
اویس لغاری کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز (IPPs) کا باب ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور حکومت اب اس کاروبار سے مکمل طور پر نکل چکی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حکومت مزید 10 ہزار میگا واٹ کے آئی پی پیز لگانے جا رہی تھی جنہیں اب روک دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ آئی پی پیز کو آئندہ کے لیے "دفن” کر دیا گیا ہے تاکہ عوام پر مہنگی بجلی کا بوجھ ختم کیا جا سکے۔
صنعت اور زراعت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ دونوں شعبوں کے لیے بجلی کے نرخ مختلف ہوں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دن کے وقت بی 3 اور بی 4 کیٹیگریز کے لیے بجلی 6 سے 7 روپے تک سستی فراہم کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ہدف بجلی کی قیمتوں کو اس سطح پر لانا ہے جہاں عام آدمی کے لیے بیٹری اسٹوریج کا استعمال معاشی طور پر فائدہ مند ثابت ہو سکے۔
میٹرنگ کے نظام میں خرابیوں پر قابو پانے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ "ڈیفیکٹو بلنگ” ایک بڑا مسئلہ ہے، اس لیے اب کوئی بھی خراب میٹر تین ماہ سے زائد نہیں چلے گا تاکہ صارفین پر اضافی بلوں کا بوجھ نہ پڑے۔ انہوں نے نجی کمپنیوں کو دعوت دی کہ وہ آگے آئیں اور خود اسمارٹ میٹرز متعارف کروائیں۔ اویس لغاری نے یہ بھی بتایا کہ میٹروں کی خریداری میں بڑی بچت کی گئی ہے اور اگلے دو سالوں میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں نجی شعبے کے حوالے کر دی جائیں گی۔