افغانستان میں پاکستانی ٹرک پر زبردستی قبضہ، متاثرہ خاندان کا پریس کانفرنس میں واپسی کا مطالبہ

لنڈی کوتل (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار) ڈسٹرکٹ پریس کلب رجسٹرڈ لنڈی کوتل میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کے افراد محمد حارث شینواری، حاجی خان محمد، راز محمد اور محبوب شاہ شینواری خوگہ خیل نے حکومتِ پاکستان اور افغان حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان میں غیر قانونی طور پر روکی گئی ان کی کمرشل ٹرک کو فوری طور پر واپس کروایا جائے۔

متاثرہ ٹرک کے مالک محمد حارث شینواری نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تقریباً آٹھ ماہ قبل ان کی گاڑی نمبر 1397/PKD پاکستان سے افغانستان واپس جانے والے افغان مہاجرین کو چھوڑنے گئی تھی۔ ان کے بقول، وہاں پہنچنے پر افغانستان کے عمری کیمپ میں فرہاد اور عزت نامی دو افغان شہریوں نے ان کی گاڑی پر زبردستی قبضہ کر لیا اور اسے اپنے پاس روک لیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مذکورہ افغان شہریوں کے ساتھ کسی قسم کا کوئی مالی لین دین، ذاتی عناد یا کاروباری تنازعہ نہیں ہے، اس کے باوجود ان کی قیمتی گاڑی کو روک کر ظلم کیا جا رہا ہے۔ محمد حارث نے بتایا کہ معاملے کے پرامن حل کے لیے ایک جرگہ بھی وہاں بھیجا گیا تھا، تاہم افغان حکام نے جرگے کے لیے جانے والے فریق کے شخص کو ہی گرفتار کر کے اپنے تمام من پسند مطالبات منوا لیے۔

متاثرہ خاندان کا کہنا تھا کہ فریقین نے ان کی دو کروڑ روپے مالیت کی قیمتی گاڑی کو زبردستی محض 60 لاکھ روپے میں حساب لگا کر اپنے قبضے میں لے لیا ہے، جو سراسر ناانصافی اور کھلی ڈکیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس فریق کے ساتھ افغان شہریوں کا مالی تنازعہ یا قرضے کا معاملہ ہے، اسے پہلے ہی ان کے حوالے کیا جا چکا ہے، لہٰذا وہ اپنا حساب کتاب اس سے پورا کریں اور ہماری گاڑی بمعہ روزانہ کے نقصان کے فوری رہا کی جائے۔

انہوں نے افغان حکام کو دوٹوک الفاظ میں تین دن کی مہلت دیتے ہوئے سخت الٹی میٹم دیا کہ اگر مقررہ مدت کے اندر ان کی گاڑی واپس نہ ملی، تو وہ لنڈی کوتل میں ننگرہار کے رہائشی عزت افغان اور فرہاد افغان کی یہاں موجود گاڑیاں روکنے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے فوری سفارتی و انتظامی اقدامات کیے جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے