کیاما، آسٹریلیا (کیو این این ورلڈ) آسٹریلیا کے قصبے کیاما میں ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں پبلک لائبریری سے لی گئی ایک کتاب تقریباً 150 سال بعد واپس کر دی گئی۔ لائبریری انتظامیہ کے مطابق یہ ان کے علم میں آنے والا اپنی نوعیت کا ایک غیر معمولی واقعہ ہے، کیونکہ اتنی طویل مدت کے بعد کسی کتاب کی واپسی کی مثال شاذ و نادر ہی ملتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق "Antek’s of Athens” نامی یہ کتاب 1858 میں شائع ہوئی تھی اور حال ہی میں ایک شخص کو اپنے گھر کی تزئین و آرائش کے دوران ایک پرانے اور بند آتشدان کے اندر لکڑی کے ڈبے سے ملی۔ دریافت ہونے کے بعد اس شخص نے کتاب کو کیاما پبلک لائبریری کے حوالے کر دیا۔
کیاما لائبریری کی منیجر مچل ہڈسن نے بتایا کہ انہوں نے پہلے کبھی ایسا واقعہ نہیں سنا جس میں کوئی کتاب ڈیڑھ صدی بعد واپس کی گئی ہو۔ ان کے مطابق مختلف لائبریریوں میں بعض اوقات 30 یا 40 سال بعد کتابیں واپس آ جاتی ہیں، مگر 150 سال کی تاخیر ایک غیر معمولی ریکارڈ ہے۔
لائبریری حکام کے مطابق اگر اس کتاب پر روایتی جرمانہ لاگو کیا جائے تو اس کی رقم تقریباً 19 ہزار 500 آسٹریلوی ڈالر بنتی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں 54 لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے۔ تاہم لائبریری کے پاس ایسا کوئی ذریعہ موجود نہیں جس کے ذریعے آخری بار کتاب لینے والے فرد کی شناخت یا اس سے واجبات وصول کیے جا سکیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ لائبریری کا قیام 1872 میں عمل میں آیا تھا اور اُس دور میں ایک کتاب کا کرایہ تین پنس فی ہفتہ مقرر تھا۔ کتاب کے اندر موجود مہر سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔ تاہم اُس زمانے کے رجسٹر، جن میں کتابیں لینے والوں کا ریکارڈ محفوظ کیا جاتا تھا، وقت کے ساتھ گم ہو چکے ہیں۔
مچل ہڈسن کے مطابق کتاب پر ایسا کوئی نشان یا معلومات بھی موجود نہیں جس سے یہ معلوم کیا جا سکے کہ اسے آخری بار کس شخص نے حاصل کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کسی قاری نے واجبات یا جرمانے سے بچنے کے لیے کتاب واپس نہ کی ہو اور وہ کئی دہائیوں تک آتشدان کے اندر ہی پڑی رہی ہو۔
لائبریری انتظامیہ کے مطابق طویل عرصے تک نمی اور بند ماحول میں رہنے کے باعث کتاب کو کچھ نقصان پہنچا ہے، تاہم اس کی تاریخی اہمیت برقرار ہے۔ کتاب پر درج نمبر 506 اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ لائبریری کے ابتدائی ذخیرے میں شامل پہلی ایک ہزار کتابوں میں سے ایک تھی۔
مچل ہڈسن نے کہا کہ غالب امکان ہے کہ یہ کتاب لائبریری کے قیام کے ابتدائی برسوں میں غائب ہوئی تھی۔ اب اس نایاب اور تاریخی کتاب کو لائبریری کے مقامی تاریخ کے خصوصی ذخیرے میں نمائش کے لیے رکھا جائے گا تاکہ عوام اس منفرد ورثے کو دیکھ سکیں۔