لنڈی کوتل (کیو این این ورلڈ/ بیورورپورٹ) وفاقی حکومت کی جانب سے نافذ کیے گئے نئے ٹیکسوں کے خلاف ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں تاجروں نے مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی۔ ہڑتال کے باعث پاک افغان بارڈر تورخم کے قریب واقع تاریخی لنڈی بازار سمیت تمام کاروباری مراکز، مارکیٹیں اور دکانیں بند رہیں، جس سے کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہو گئیں۔
تاجروں اور مقامی عوام نے وفاقی حکومت کے نئے ٹیکسوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ قرار دیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ پہلے ہی کاروباری حالات مشکلات کا شکار ہیں، ایسے میں مزید ٹیکس عائد کرنا تاجروں اور عوام دونوں کے لیے مشکلات میں اضافے کا سبب بنے گا۔
احتجاج میں شریک تاجروں نے اعلان کیا کہ جب تک ان کے بقول ناجائز ٹیکس واپس نہیں لیے جاتے، ان کی جدوجہد اور احتجاج جاری رہے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کاروباری طبقے پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کے بجائے ایسے اقدامات کیے جائیں جو تجارت کے فروغ، روزگار کے مواقع بڑھانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا باعث بنیں۔
تاجروں کا کہنا تھا کہ سرحدی علاقوں کی معیشت پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے اور نئے ٹیکس مقامی کاروبار کو مزید متاثر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت تاجروں کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنے اور فوری طور پر مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالے۔
واضح رہے کہ پاک افغان کشیدگی کے باعث تورخم بارڈر ہر قسم کی تجارتی آمدورفت اور عام مسافروں کے لیے بند ہے، جس کے باعث سرحدی علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں پہلے ہی متاثر ہو رہی ہیں۔ ایسے حالات میں تاجروں کا کہنا ہے کہ نئے ٹیکس ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کریں گے۔