سیالکوٹ (کیو این این ورلڈ/بیورو چیف مدثر رتو): آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین (سی بی اے) گیپکو ریجن نے اوور لوڈڈ ٹرانسفارمرز، ایم اینڈ ٹی ورکشاپ کی ناقص کارکردگی اور فیلڈ اسٹاف کو درپیش مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج اور پرائیویٹ ورکشاپس سے ٹرانسفارمرز کی مرمت کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔
یونین کے ریجنل چیئرمین ولی الرحمن خان نے چیف ایگزیکٹو آفیسر گیپکو محمد ایوب جام کو ارسال کیے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ شدید اوور لوڈنگ کے باعث مختلف علاقوں میں ٹرانسفارمرز بار بار جل رہے ہیں، جبکہ ایم اینڈ ٹی ورکشاپ سے مرمت ہونے والے ٹرانسفارمرز کا معیار بھی ناقص ہے، جس کے باعث بعض ٹرانسفارمرز فیلڈ میں نصب کیے جانے کے بعد دوبارہ خراب ہو جاتے ہیں۔
یونین نے واضح کیا ہے کہ آئندہ کوئی لائن سپرنٹنڈنٹ اپنی جیب سے یا کسی پرائیویٹ ورکشاپ سے ٹرانسفارمر کی مرمت نہیں کروائے گا۔ اسی طرح ایم اینڈ ٹی ورکشاپ کی جانب سے جاری کیے جانے والے کاپر کی کمی کے سرٹیفکیٹس کو بھی مسترد کر دیا گیا ہے۔ یونین کا کہنا ہے کہ ٹرانسفارمرز تحویل میں لیتے وقت کاپر کا وزن نہیں کیا جاتا، اس لیے بعد میں کاپر کی کمی کا سرٹیفکیٹ جاری کرنا قابل قبول نہیں۔
یونین کے مطابق تمام خراب ٹرانسفارمرز مقررہ قانونی طریقہ کار کے تحت گیپکو اسٹور یا ایم اینڈ ٹی ورکشاپ میں جمع کروائے جائیں گے اور مرمت کے بعد ہی انہیں دوبارہ فیلڈ میں نصب کیا جائے گا۔
یونین نے مطالبہ کیا ہے کہ ایم اینڈ ٹی ورکشاپ کی مرمتی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ آلات اور مرمت کے معیار کو فوری بہتر بنایا جائے، جبکہ مسلسل اوور لوڈنگ والے علاقوں میں زیادہ استعداد کے نئے ٹرانسفارمرز نصب کیے جائیں تاکہ بار بار خرابی اور بجلی کی بندش کا مسئلہ کم کیا جا سکے۔
خط میں لائن سپرنٹنڈنٹس سے لیبر قوانین کے مطابق صرف آٹھ گھنٹے ڈیوٹی لینے، فیلڈ اسٹاف کی کمی فوری پوری کرنے اور ملازمین کو درپیش دیگر مسائل حل کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
یونین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایم اینڈ ٹی ورکشاپ کی ناقص کارکردگی یا گیپکو انتظامیہ کی مبینہ سستی کے باعث بجلی کی بحالی میں تاخیر ہوئی اور اس کے نتیجے میں عوامی احتجاج کی صورتحال پیدا ہوئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری گیپکو انتظامیہ پر عائد ہوگی۔