مزدور کا مجبور ڈے سارا سال رہتا ہے!
تحریر: ظفر اقبال ظفر
مزدور کے لیے مزدور ہونا اتنا تلخ احساس نہیں جتنا مجبور ہونا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری وہ سیاسی دہشت گردی ہے جو ایک مزدور کو مجبور بنا کر اُسی کے ہاتھوں مروا دیتی ہے۔ اس بے حسی و بے یارو مددگار دور میں جی کر زندگی پہ احسان کرنے والے مزدور کے ہاتھوں کے چھالے ایک عبادت گزار کے ماتھے پر بنے سجدوں کے نشان سے زیادہ خدا کو محبوب ہیں۔
حقیقی مزدور وہ ہے جو محنت میں دیانتدار ہو۔ مزدور کی اُجرت کے بارے میں ایک حدیث بہت بیان کی جاتی ہے کہ مزدور کی مزدوری اُس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔ اس حدیث کی حقیقی وضاحت سے آشنا ہونا ہی ایک حقیقی مزدور کی پہچان کرواتا ہے یعنی مزدوری اس ایمانداری سے کی جائے کہ پسینے سے شرابور ہو جائے۔
جو مزدوری کے ساتھ مخلص نہیں وہ محنت چور ہے، اُس کی اُجرت برکت سے محروم ہے۔ سب سے بہترین کمائی انسانی ہاتھوں کی محنت ہے۔ مزدور حادثے کا شکار تو ہو سکتا ہے مگر بیماری کا نہیں، کیونکہ مزدوری کا جسم ورزش کا محتاج نہیں ہوتا۔
مزدوری انبیاء کرام کا پیشہ رہا ہے۔ حضرت سلیمان ؑ کو خدا نے زمین کی ہر مخلوق پر حکومت عطا کی تھی مگر وہ اپنا گزارا ٹوکریاں بنانے کی مزدوری سے کیا کرتے تھے۔ حضرت داود ؑ نے خدا سے مزدوری مانگ کر لی تھی، اُن کے ہاتھوں میں لوہا موم کی طرح نرم ہو جایا کرتا اور وہ جنگی لباس زرہ بناتے تھے۔
بکریاں اور اونٹ چرانے سمیت ہر قسم کی مزدوری خدا کے محبوب بندوں کا پیشہ رہی، وہ پیشہ جو خدا کی دوستی پر فائز کرتا ہے۔ مزدور مزدوری سے نہیں بلکہ حکومت کی طرف سے پیدا کیے گئے سخت حالات کی مجبوری سے مارا جاتا ہے۔ روز کمانا اور روز کھانا، مزدور کو "مزدور ڈے” کی چھٹی کے دن بھی کام پر لا کھڑا کرتا ہے۔ اس دن چھٹی کی بجائے اُجرت دوگنی دے کر مزدوروں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔
میں نے ایسے انصاف پسند مزدور بھی دیکھے ہیں جو اپنی روٹی ساتھ لے کر کام پہ جاتے ہیں۔ مزدور کی روٹی جو اس کی ہتھیلی کی چنگیر پر رکھی ہے، اس کے اوپر ایک پیاز ہوتا ہے۔ تازہ پیاز وٹامن اے، بی اور سی کا مجموعہ ہوتا ہے۔ کسی اور غذا میں یہ تینوں وٹامن یکجا نہیں پائے جاتے، پیاز مزدور کی مادری خوراک ہے۔
مزدور کسی بھی ریاست کے حسن سلوک کا خاص مستحق طبقہ ہے۔ مزدوروں کی تعداد اُس ملک میں سب سے زیادہ ہوتی ہے جہاں عام عوام کے لیے ماہر و قابل احباب کے زیرِ سایہ تعلیم و تربیت کے معیاری فری انتظامات نہ ہوں، اور اگر ہوں تو وہ اتنے مہنگے ہوں کہ ایک مزدور باآسانی اپنے بچوں کو پرائیویٹ طور پر ترقی کے مقام پر نہ پہنچا سکے۔
ترقی یافتہ ممالک میں مزدور بھی تعلیم یافتہ ہوتے ہیں اور ان کی یومیہ اُجرت اتنی پرکشش ہوتی ہے کہ انہیں مزدوری احساسِ کمتری کی نظر سے دیکھا جانے والا پیشہ نہیں لگتا۔ حقوق کی فراوانی میں باوقار زندگی گزارنے والے مزدوری پیشے میں رہتے ہوئے بھی اپنے بچوں کو شاندار مستقبل سے ہمکنار کر سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں انسانی حقوق کے فقدان نے مزدور کو صلہ رحمی کا مستحق بنا کے رکھا ہوا ہے۔ کسی بھی دولت یافتہ کاروباری شخص کی ترقی کے پیچھے مزدوروں کی محنت کا ہاتھ ہوتا ہے۔
مزدور کے حالاتِ زندگی کی عکاسی ایک دردناک کیفیت ہے جسے بیان کرتے قلم بھی اشک بار ہو جاتا ہے، مگر احساسِ مزدور اجاگر کرنے کے لیے اس کرب سے گزرنا بہت ضروری ہے تاکہ صاحبِ اختیار لوگوں کی رُوحوں کو جھنجھوڑا جا سکے۔ مزدور اور مجبور ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں۔ وہ مزدور ہی ہوتا ہے جو بھیک میں ملے پانی کو ٹھکرا کر صبر کے گھونٹ پی کر سفید پوشی کی لاج رکھتا ہے۔
بھٹے پر مزدوری کرتی ماں کو دیکھ کر اس کا بچہ اپنے نصیب کو اس لیے کوستا ہے کہ وہ اپنی جنت کو دھوپ میں جلتا دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اس مزدور ماں کے احساس و جذبات کی قیمت کاغذ کے نوٹ ادا نہیں کر سکتے، اسی لیے خدا نے اپنی دوستی کا اجر قائم کر رکھا ہے۔ جہاں مزدوری کی اُجرت سے زیادہ ضروریاتِ زندگی مہنگی ہوں وہاں ناانصافی کی حکومت قائم ہوتی ہے۔
زمین پر قائم ملکوں کے نام پر اُن انسانوں کی قربانیاں دی جاتی ہیں جن کے لیے خدا نے زمین تخلیق کی ہے، گویا حساب زمین کا نہیں زمین پر بسنے والے انسانوں کا لیا جائے گا۔ اس زمین پر بسنے والی مزدوروں کی لاتعداد گنتی نے خدا کو بتانا ہے کہ بجلی، گیس، پانی، راشن، دوائی اور انصاف سمیت تمام ضروریاتِ زندگی اتنی مہنگی تھیں کہ ہم پسینے کی جگہ خون بھی بہا دیں تب بھی ساری سہولتیں خرید نہیں سکتے۔
جنہوں نے یہ ظلم مسلط کیے ہیں اُن کے لیے یہ سب مفت دستیاب ہوتی ہیں۔ اُس دن محبِ وطنی کے لبادے میں چھپے انسانی حقوق کے مجرموں کو حسرت ہوگی کہ کاش ہم بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھنے کی بجائے وہ مزدور ہی ہوتے جن کا دوست خدا آج ہم سے ان کے حقوق کا حساب مانگ رہا ہے۔
مزدور سمیت تمام پیشوں سے وابستہ انسانوں کے جائز حقوق کی ذمہ داری ریاست کو چلانے والوں پر ہوتی ہے، مگر بدقسمتی سے وہ ریاست انہی کے حقوق کی چوری سے اپنی نسلوں کے مقدر سنوار رہی ہے۔ اس ناانصافی کے نظام میں کئی صاحبِ کردار لوگ بھی موجود ہیں جن کی وجہ سے مزدور ابھی تک جیے جا رہے ہیں۔ مزدور ملکی و عوامی ترقی کے معمار ہیں، ان کو مہنگائی کی سولی سے اتار کر سستی ضروریاتِ زندگی فراہم کرنا ہی ان کا حق دینا ہے۔
