سیالکوٹ (کیو این این ورلڈ/ڈسٹرکٹ رپورٹر حسنین راجہ) سیالکوٹ میں سٹی ٹریفک پولیس کی ناقص حکمت عملی کے باعث شہر بھر میں ٹریفک جام معمول بن گیا، جہاں منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہونے لگا اور شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
تفصیلات کے مطابق خادم علی روڈ، دارہ آرائیاں، ضلع کچہری چوک، حاجی پورہ، فتح گڑھ، شہاب پورہ، کشمیر روڈ اور گوہد پور سمیت مختلف علاقوں میں روزانہ کئی کئی گھنٹے ٹریفک جام رہتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک وارڈنز ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے بجائے چالان کرنے اور موبائل فون استعمال کرنے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔
شہریوں نے شکایت کی کہ مختلف چوکوں پر سیف سٹی کیمروں کی موجودگی کے باوجود ٹریفک کنٹرول بہتر نہیں ہو سکا، جبکہ ایک ایک مقام پر متعدد وارڈنز کی موجودگی کے باوجود صورتحال جوں کی توں ہے۔
ٹریفک جام کے باعث سکولوں سے چھٹی کے بعد طلبہ کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ایک بجے چھٹی کرنے والے بچے 3 سے 4 بجے تک گھروں پہنچنے پر مجبور ہیں۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ سیالکوٹ میں ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے لیے فرض شناس اور اہل افسران تعینات کیے جائیں تاکہ شہریوں کو روزمرہ مشکلات سے نجات مل سکے۔