معمولی بارش نے نکاسیٔ آب کے نظام کی خامیاں بے نقاب کر دیں

قصور (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف طارق نوید سندھو)قصور میں صرف 15 منٹ تک جاری رہنے والی بارش نے واسا کی کارکردگی اور نکاسیٔ آب کے حوالے سے کیے جانے والے حکومتی دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ بارش کے فوری بعد شہر کے متعدد علاقے زیرِ آب آ گئے اور اہم سڑکیں، گلیاں اور بازار کئی کئی فٹ پانی میں ڈوب گئے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

بارش کا پانی سڑکوں پر جمع ہونے سے ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا جبکہ موٹر سائیکل سواروں، پیدل چلنے والوں اور دکانداروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ مختلف علاقوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث شہریوں کی روزمرہ سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں اور کئی مقامات پر آمدورفت تقریباً معطل ہو کر رہ گئی۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ہر سال مون سون سیزن سے قبل نکاسیٔ آب کے مؤثر انتظامات اور ترقیاتی منصوبوں کے دعوے کرتے ہیں، تاہم معمولی بارش نے ان دعوؤں کی حقیقت سب کے سامنے عیاں کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صرف 15 منٹ کی بارش سے شہر کی یہ حالت ہو سکتی ہے تو شدید مون سون بارشوں کے دوران صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

عوامی حلقوں نے واسا اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ نکاسیٔ آب کے نظام کی بہتری کے لیے اربوں روپے خرچ کیے جانے کے دعوے کیے جاتے ہیں، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ بار بار پیش آنے والی اس صورتحال کا مستقل حل نکالا جائے اور متعلقہ ادارے صرف اعلانات اور دعوؤں تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کریں۔

شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نکاسیٔ آب کے نظام کا جامع جائزہ لیا جائے، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور شہر میں مؤثر ڈرینیج سسٹم کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ ہر بارش کے بعد عوام کو مشکلات، اذیت اور پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے