خیبر (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار نورحلیم آفریدی): امیر جمعیت علماء اسلام ضلع خیبر مولانا حضرت خان منیب کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کو جمعیت علماء اسلام تحصیل باڑہ کے ذمہ داران نے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا حضرت خان منیب کے خلاف اس قسم کے بے بنیاد اور غیر ثابت شدہ الزامات قابلِ قبول نہیں۔
ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء اسلام تحصیل باڑہ کے امیر مولانا مستقیم شاہ حقانی نے باڑہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مولانا سید جلیل حقانی، سیف اللہ فرقانی، مولانا اسد آفریدی اور مولانا صدیق آفریدی سمیت دیگر عہدیداران اور مجلس عاملہ کے اراکین بھی موجود تھے۔
مولانا مستقیم شاہ حقانی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مولانا حضرت خان منیب پر یہ الزامات تیراہ کی چوبیس رکنی کمیٹی کے رکن ہونے کی وجہ سے عائد کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کی سیاست ہمیشہ جمہوری رویوں پر مبنی رہی ہے اور سیاسی و جمہوری جدوجہد کو کسی بھی صورت ریاست دشمنی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح کے پروپیگنڈے ہمارے قائد ملت مولانا فضل الرحمان کے خلاف بھی کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافِ رائے جمہوری عمل کا حصہ ہے اور اختلاف رکھنے والے سیاسی رہنماؤں یا کارکنوں کو ریاست دشمن قرار دینا درست طرزِ عمل نہیں۔
جمعیت علماء اسلام تحصیل باڑہ کے ذمہ داران نے کہا کہ اختلافِ رائے کو ریاست دشمنی سے تعبیر کرنا درست نہیں۔ سیاسی و جمہوری جدوجہد، آئینی حقوق اور عوام کی آواز بلند کرنا کسی بھی صورت ملک دشمنی نہیں۔
پریس کانفرنس میں مولانا حضرت خان منیب کے خلاف لگائے گئے الزامات کی بھرپور مذمت اور تردید کرتے ہوئے کہا گیا کہ جمعیت علماء اسلام اپنے قائدین کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی بھی بے بنیاد الزام یا منفی پروپیگنڈے کو قبول نہیں کرے گی۔